ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے ایک نجی ٹی وی چینل پر ایجنڈے کے بارے میں سوالات کا جواب دیا۔
حاقان فیدن نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات میں برسوں کے دوران اتار چڑھاؤ جیسے مسائل دیکھنے میں آئے ہیں، تاہم تجارت، معیشت، انسانی روابط، تعلیم اور ٹیکنالوجی کے شعبے بہت اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر جیوپولیٹیکل معاملات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: “سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں شام میں امریکی پالیسی میں تبدیلی شروع ہوئی، بشار اسد اور انتظامیہ کے خلاف جدوجہد اچانک داعش کے خلاف جنگ میں تبدیل ہو گئی، اور YPG کی حمایت کے عمل میں ترکیہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی ایک پالیسی منظر عام پر آئی۔ ٹرمپ کی دوسری مدت میں یہ پالیسی باضابطہ طور پر ترک کر دی گئی۔” انہوں نے زور دیا کہ اس اقدام نے دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ ختم کر دیا۔
فیدن نے کہا کہ ترکیہ نے اپنے اہداف کے مطابق شعوری انتخاب اور مذاکرات کے ذریعے پیش رفت کی ہے اور امریکی کانگریس کے ذریعے حل نہ ہو سکنے والے جیسے معاملات موجود ہیں ۔
فیدان نے کہا، “وقتاً فوقتاً ترکیہ کے بارے میں مخصوص فیصلے لیے جا سکتے ہیں، مگر ادارہ جاتی سطح پر جو واحد منفی اور مستقل پہلو فی الوقت موجود ہے وہ پریشان کن CAATSA پابندیاں ہیں۔” انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ متعدد ممالک کی جانب سے ترکیہ کے خلاف عائد کردہ پابندیاں پچھلے 3-4 سالوں میں ختم کی جا چکی ہیں۔
حاقان فیدان نے کہا کہ یہ پابندیاں زیادہ تر “قانونی نہیں، انتظامی” نوعیت کی ہیں لہذا ہم "اس معاملے میں ضروری اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ کیونکہ ہمارے محترم صدر اور جناب ٹرمپ دونوں اس کو ختم کرنے کے لیے مضبوط ارادے کے حامل ہیں۔ پچھلے سال ستمبر میں واشنگٹن میں دونوں رہنماوں کی ملاقات کے دوران اعلانِ عزم کیا گیا اور وزرا ء کو بھی یہ مسئلہ حل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ہمارے وزیر دفاع اور میں اس معاملے پر بھرپور کام کر رہے ہیں۔ البتہ مجموعی طور پر تعلقات اچھے انداز میں چل رہے ہیں۔”
CAATSA پابندیوں کے ختم ہونے کے امکان کے بارے میں سوال پر فیدان نے کہا: "اس کے مخصوص اقدامات ہیں۔ اس سمت میں جاری کام چل رہے ہیں۔ جب یہ عملی جامہ پہنیں گے تو عوام کو بھی آگاہی کرادی جائیگی۔"
فیدان نے کہا کہ یہ عنقریب ممکن ہے "کیونکہ کارروائیوں کے پورا ہونے اور کانگریس میں قانونی عمل کے مکمل ہونے میں ہمیشہ ہم آہنگی نہیں ہوتی۔ مگر انتظامی سطح پر، یعنی حکومتوں کی طرف سے ارادے کے اعتبار سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ البتہ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ امریکی کانگریس میں یہ عمل کس طرح آگے بڑھتا ہے۔"



















