برکینا فاسو کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 30 جون کو متعدد فوجی ٹھکانوں پر کیے گئے مربوط حملوں کو پسپا کر دیا ہے جبکہ فضائی حملوں کی مدد سے کی جانے والی جوابی کارروائیوں میں 400 سے زائد حملہ آور مارے گئے ہیں۔
جنرل اسٹاف کی جانب سے بدھ کی رات جاری کیے گئے ایک بیان میں بتایا گیا کہ ان حملوں میں سرہا کے علاقے میں گایری اور لپتاکو کے علاقے میں سولہان اور سیبا میں نیشنل آرمد فورسز اور رضاکاروں برائے دفاعِ وطن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
فوجی ذرائع کے مطابق، زمینی دستوں نے فضائیہ کی مدد سے ان حملوں کا فوری جواب دیا۔
فوج نے بتایا کہ ٹارگٹڈ فضائی حملوں اور زمینی لڑائی کے نتیجے میں 400 سے زائد دہشت گردوں کو بے اثر کر دیا گیا ہے، جبکہ 250 سے زائد موٹر سائیکلیں، مختلف کیلیبر کے 353 ہتھیار، گولہ بارود اور مواصلاتی آلات پر مشتمل سامان کا ایک بڑا ذخیرہ بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
فوج نے یہ بھی اطلاع دی کہ ان جھڑپوں کے دوران ان کے تین اہلکار ہلاک ہوئے، جن میں سے دو سولہان اور ایک گایری میں مارا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں سیکیورٹی آپریشنز، مفرور افراد کا تعاقب کرنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے مقصد سے جاری ہیں اور ان میں تیزی لائی جا رہی ہے۔
اس کے ساتھ ہی سول آبادی سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کریں، حفاظتی ہدایات پر عمل کریں اور مشکوک افراد کی اطلاع فوج کو دیں۔
بیان میں ان مربوط حملوں اور بورکینا فاسو کی جانب سے ایک دن پہلے اعلان کردہ فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے کے درمیان تعلق جوڑا گیا ہے۔
بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ فرانس مسلح گروہوں کی پشت پناہی کر رہا ہے تاہم اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔














