قطر نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں مفاہمت کی یادداشت سے متعلق مسائل مثبت انداز میں حل ہو گئے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ قطر اور پاکستان کی ثالثی میں آج دوحہ میں امریکی اور ایرانی وفود کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں۔
لوُسرن کے سربراہی اجلاس میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی بنیاد پر آگے بڑھتے ہوئےان مذاکرات میں اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے دائرہ کار میں شامل امور پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
الانصاری نے مزید کہا کہ فریقین نے آنے والے وقت میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اگلی میٹنگ ایران کے مرحوم رہبر اعلی کی آخری رسومات کی تکمیل کے بعد جلد از جلد منعقد کی جائے گی۔
امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی قطر میں ہونے والی ملاقاتیں مثبت رہیں۔ ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ تکنیکی سطح پر جاری مذاکرات میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔
یہ دونوں اہلکار واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کے لیے منگل کے روز دوحہ میں موجود تھے۔
گزشتہ ماہ دستخط کیے گئے معاہدے نے 60 روزہ مذاکراتی عمل کی راہ ہموار کی تھی۔ تاہم، یہ عمل آبنائے ہرمز کے آس پاس پیدا ہونے والی کشیدگی اور اس تزویراتی (اسٹریٹجک) اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ کے مستقبل کے انتظام سے متعلق بحث و تکرار کی وجہ سے ایک مشکل آغاز کا شکار ہوا تھا۔
اے ایف پی نے ایک نامعلوم سفارت کار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ثالثوں کے ذریعے ہونے والے مذاکرات گزشتہ روز بھی جاری رہے۔
















