مذاکرات کے باوجود کیا اسرائیل لبنان پر حملوں کو وسعت دے گا؟
مشرق وسطی
2 منٹ پڑھنے
مذاکرات کے باوجود کیا اسرائیل لبنان پر حملوں کو وسعت دے گا؟اسرائیلی میڈیا کے مطابق، فوج کی جانب سے مزید حملوں کی تیاریوں کے دوران اسرائیل نے روم میں فریقین کے مابین جاری بالواسطہ مذاکرات کے باوجود لبنان میں اضافی فوجی کارروائیوں کا جائزہ لیا ہے
اسرائیل-لبنان / Reuters

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، فوج کی جانب سے مزید حملوں کی تیاریوں کے دوران اسرائیل نے روم میں فریقین کے مابین جاری بالواسطہ مذاکرات کے باوجود لبنان میں اضافی فوجی کارروائیوں کا جائزہ لیا ہے۔

اسرائیل کے پبلک براڈکاسٹر نے گمنام اسرائیلی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی فوج کا ردعمل ابھی ختم نہیں ہوا اور ان آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے جنہیں حساس آپریشنز قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اطالوی دارالحکومت میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران لبنانی حکام کسی بھی اسرائیلی حملے کے دائرہ کار کو محدود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں امید ہے کہ واشنگٹن اسرائیل پر مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے دباؤ ڈالے گا۔

چینل 13 نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج ممکنہ کشیدگی کے لیے اپنی تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہے اور جنوبی لبنان پر حملوں کی پہلی لہر کے بعد اگلے گھنٹوں میں اضافی حملوں کے لیے آپشنز تیار کر رہی ہے۔

علاوہ ازیں ، چینل 12 نے رپورٹ کیا کہ فوج نے سیاسی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ لبنان میں زیادہ مضبوط اور زیادہ فیصلہ کن حملوں کی منظوری دے۔

یہ رپورٹس بدھ کے روز سویرے جنوبی لبنان کے علاقے مجدل زون میں ایک اسرائیلی فوجی دستے کو نشانہ بنانے والے دھماکے کے بعد سامنے آئی ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، دھماکے کے نتیجے میں فوجیوں کا جانی نقصان ہوا جبکہ  چار شدید زخمی فوجیوں کو فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے رامبام میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا۔

دریں اثنا، لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ جنوبی قصبے تبنین پر اسرائیلی حملوں میں ایک شخص ہلاک اور 12 زخمی ہوئے، جبکہ اسرائیلی فوج کی جانب سے انخلا کے الٹی میٹم کے بعد منصوری قصبے سے خاندانوں نے فرار ہونا شروع کر دیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روم میں لبنان اور اسرائیل کے مابین بالواسطہ مذاکرات کے دوسرے دور کا دوسرا دن تھا۔

اس سے قبل کے پانچ ادوار امریکہ کی حمایت یافتہ مذاکراتی عمل کے حصے کے طور پر واشنگٹن میں منعقد ہوئے تھے۔

لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق، اسرائیل 2 مارچ سے لبنان میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے؛ جس کے نتیجے میں اب تک 4,333 افراد ہلاک اور 12,250 زخمی ہو چکے ہیں۔

 

دریافت کیجیے
گوئٹے مالا: فیوگو آتش فشاں میں دھماکے
روسی علاقوں پر یوکرینی ڈراونز کی بارش، ماسکو پر حملے میں پانچ افراد ہلاک
نتن یاہو غزہ میں جنگ بندی یا ٹرمپ کے منصوبے کے تحت انخلاء کو مسترد کرتے ہیں: رپورٹ
امریکہ: 65,000 سے زیادہ شہری اپنے گھروں سے نکال گئے
شمالی کوریا: امریکہ اور اس کے اتحادی ایشیا-پیسیفک میں 'نئے سیکیورٹی بحران' کو ہوا دے رہے ہیں
ترکیہ خفیہ سروس کے چیف کی غزہ امن منصوبے پر بحث کرنے کے لیے حماس کے رہنما سے ملاقات
اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں جولائی میں 2,256 حملے کیے
آسٹریلیا: ایچ فائیو برڈ فلو کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر پرندے ہلاک
ایران: عمان کے ساتھ مذاکرات آبنائے ہرمز  سے بحری آمدروفت کے موضوع پر مرکوز ہیں
اسد اقتدار کا خاتمہ شام سمیت خطے کےلیے ناگزیر تھا: احمد الشراع
یوکرین اور روس کے مابین حملوں میں شدت آگئی،متعدد ہلاکتیں
مصر میں  5.3 شدت کا زلزلہ،عوام میں خوف و ہراس
گیس پروم: یورپی گیس ذخائر میں کمی، ترسیل کے عمل کو خطرات س دو چار کر رہی ہے
ترکیہ وزارت خارجہ: نیتن یاہو کا مقصد علاقے میں امن و استحکام قائم کرنے میں رکاوٹ ڈالنا ہے
امید ہے معاہدہ طے پا جائے گا: ٹرمپ