امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات پیر کی دوپہر سے شروع ہوں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق جلد ہی ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
میری لینڈ میں واقع جوائنٹ بیس اینڈریوز جاتے ہوئے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کے بعد جمعہ کے روز ایک "بڑے پیمانے کا طے شدہ حملہ" منسوخ کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ "انہوں نے ہم سے حملہ نہ کرنے کی درخواست کی اور سچ یہ ہے کہ سعودی عرب بھی یہی چاہتا تھا کیونکہ سب کا خیال تھا کہ ایک معاہدہ ہونے کو ہے۔ یہ معاملہ آبنائے ہرمز اور بالآخر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہے۔"
انہوں نے مزید کہا ہے کہ تین اہم فریقوں کے علاوہ ایران نے بھی واشنگٹن سے حملہ مؤخر کرنے کی بھرپور درخواست کی اور معاہدے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
ایران کے لیے کسی ممکنہ ڈیڈ لائن سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ فی الحال کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ہم انتظار کریں گے اور دیکھیں گے ۔ اگرچہ امریکہ ضرورت پڑنے پر کسی بھی وقت کاروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے لیکن ہم فوجی کاروائی کے بجائے سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں ۔"
انہوں نے کہا ہے کہ " جنگ میں جانوں کا زیاں ہوتا ہے اور ہم ایسا نہیں چاہتے لہٰذا میں معاہدہ کرنا پسند کروں گا۔"
ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" سے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ امریکہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی کے لیے تیار تھا لیکن ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے چند دیگر ممالک کی درخواست پر حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق، آبنائے ہرمز کو "فوری، مکمل اور بلا تعطل" کھولنے کے ساتھ ساتھ ایران کی طرف سے جوہری خطرے کے خاتمے سے متعلق اقدامات پر مشتمل، مجوزہ معاہدے کے ابتدائی ڈھانچے پر اتفاق ہو چکا ہے ۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ "میں نے، دنیا کے مستقبل اور ایک مستحکم و خوشحال ایران کے مفاد کی خاطر، جلد از جلد معاہدہ طے پانے کی شرط پر حملہ منسوخ کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے ۔"
انہوں نے اسرائیل کے بھی اس فیصلے کی حمایت کرنے کا دعوی کیا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ حملہ مؤخر کرنے سے قبل امریکی افواج مکمل تیاری، ہائی الرٹ اور فوری کاروائی کے لیے تیار تھیں۔


















