اٹلی کے کئی بڑے شہروں اور اسپین کے شہر بارسلونا کے مرکزی علاقے میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور سکیورٹی فورسز نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور تیز دھار پانی کا استعمال کیا۔
اٹلی کے شہر تورین میں مظاہرین کی جانب سے سکیورٹی فورسز پر بوتلیں اور آتش بازی کے پٹاخے پھینکے جانے کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے ذریعے کارروائی کی۔
روم میں بھی سڑکوں پر احتجاج کے دوران پولیس پر بوتلیں پھینکے جانے کے بعد سکیورٹی فورسز نے تیز دھار پانی اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
بولوگنا میں پولیس نے بوتلوں اور آتش گیر پٹاخوں سے حملہ کرنے والے مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا اور میلان اور فلورنس میں پولیس کی کھڑی کردہ رکاوٹوں نے مظاہرین کو شہر کے مرکزی علاقوں میں داخل ہونے سے روک دیا۔
اطالوی خبر رساں ادارے' اے این ایس اے' کے مطابق پولیس نے گزشتہ احتجاجی مظاہروں کے دوران پیش آنے والے واقعات کے سلسلے میں میلان، اس کے پڑوسی شہر مونزا اور دیگر 20 شہروں میں 150 سے زائد مقامات پر تلاشی لی ہے۔
ان کارروائیوں کے دوران پولیس پر حملوں، گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور آتش زنی کے منصوبوں سے متعلق الزامات کی تحقیقات کی گئی ہیں۔
اٹلی کے وزیر داخلہ میٹیو پیانتیدوسی نے اعلان کیا ہے کہ حکام نے شہروں کے حساس علاقوں میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیئے ہیں اور تشدد کے واقعات سے فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔
بارسلونا میں نوجوانوں کا احتجاج پُرتشدد واقعات میں تبدیل ہو گیا
اسپین میں بارسلونا کے مرکزی علاقے میں نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والا احتجاج پُرتشدد واقعات میں تبدیل ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔
سیاہ لباس پہنے سیکڑوں مظاہرین فرانس کی طلبہ تحریک ’’لیسے ایندیگنے‘‘سے متاثر ہو کر ’’انسٹی ٹیوٹ ایندیگناتس‘‘کے نام سے کاتالونیا اسکوائر پر جمع ہوئے۔
بعض مظاہرین کی جانب سے دکانوں میں لوٹ مار کرنے، کچرے کے ڈبوں کو آگ لگانے اور سکیورٹی فورسز پر پتھر اور بوتلیں پھینکنے کے بعد پولیس نے مظاہرے میں مداخلت کی۔
پولیس کی کاروائی کے بعد مظاہرین قریبی تنگ گلیوں میں منتشر ہو گئےلیکن وہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ ان واقعات میں کئی افراد زخمی ہوئے، جبکہ بعض مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا۔
یہ پُرتشدد واقعات ایک ایسے احتجاجی کیمپ کے قریب پیش آئے جو رہائش کے حق کے مطالبے کے لیے کافی عرصے سے قائم ہے۔ یہ علاقہ مقامی رہائشیوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمدورفت کے باعث خاصا مصروف رہتا ہے۔
بارسلونا کی مقامی پولیس'گارڈیا اوربانا' نے شہر کے مرکزی علاقے کی کئی اہم سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کر دیں اور آس پاس کے دکانداروں نے اپنے کاروبار کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے دکانوں کے شٹر گرا دیئے۔
کاتالونیا کی خودمختار حکومت کے سربراہ سلواڈور ایلا نے سوشل میڈیا ایکس سے جاری بیان میں تشدد کے واقعات کی مذمت کی ہے۔
ایلا نے کہا ہے کہ "حملہ کرنا، دھمکیاں دینا یا املاک کو نقصان پہنچانا کوئی جمہوری حق نہیں ہے۔ ایسا کرنے والے ہر شخص کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی"۔
















