جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے اقوامِ متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ ایردوان نے اپنے خطاب میں فلسطین، اقوامِ متحدہ کی اصلاحات، علاقائی تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے موضوعات کو اجاگر کیا۔
''ہم فلسطینی عوام کی جدوجہد کی آواز پہنچاتے رہیں گے''
ایردوان نے فلسطین کے صدر محمود عباس کی مسلسل دو سال سے جنرل اسمبلی میں شرکت نہ کر پانے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کی آواز بنے رہنے کے عزم پر اٹل رہے گا اور ان ممالک سے اپیل کی جو اب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کرتے کہ وہ اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی کریں۔
" دنیا ان دنوں کے منتظر ہے جب اس مضبوط ارادے کو جان ملے گا"
ترک صدر نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے قیام کے 81 سال بعد بھی دنیا جنگوں اور تنازعات کا سامنا کر رہی ہے، اور پچھلے 12 ماہ میں 60 سے زائد تصادم اور جنگیں رونما ہوئیں۔
"غزہ عصرِ حاضر کا سب سے غیرانسانی حراستی کیمپ ہے"
ایردوان نے غزہ میں پیش آنے والے حالات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، بڑی تعداد میں لوگ بے گھر ہوئے اور ہسپتالوں کو شدید ایندھن کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملے بڑھ گئے ہیں اور القدس میں مقدس مقامات تک رسائی محدود کی جا رہی ہے۔
"اقوامِ متحدہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قابل نہیں رہا"
ایردوان نے کہا کہ اقوامِ متحدہ تنازعات کے خطوں میں مؤثر ثابت نہیں ہو رہا اور بین الاقوامی نظام پر اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔
"سیکورٹی کونسل کو ‘دنیا پانچ سے بڑی ہے’ کے اصول کے مطابق اصلاحات کے ذریعے جدید بنانا چاہیے"
انہوں نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور بین الاقوامی قانون کے یکساں اطلاق، علاقائی ملکوں کی شمولیت، شفاف سفارت کاری اور آمدنی کی منصفانہ تقسیم کو مضبوط کرنے کی اپیل کی۔
"غزہ کی از سر نو تعمیر کے لیے فوراً کام شروع کرنا ہوگا"
ایردوان نے کہا کہ غزہ کی تعمیر نو کا آغاز جلد از جلد ہونا چاہیے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جانی چاہیے جو 1967 کی سرحدوں کے اندر اور اس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔
"بحیرہ اسود میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں"
روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت جاری ہونے کا ذکر کرتے ہوئے ایردوان نے کہا کہ بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملے چاہے جو بھی کر رہا ہو، قابلِ قبول نہیں۔
"ترکیہ استحکام کا جزیرہ بنے رہنے کا عزم رکھتا ہے"
ایردوان نے کہا کہ ترکیہ یورپ کی سلامتی کے تناظر میں اہم کردار ادا کر رہا ہے انہوں نے خطہ بلقان، جنوبی قفقاز، شام، عراق اور افریقہ میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں ترکیہ کی سفارتی کاوشوں کی تفصیلات بتائیں۔
"ہم انطالیہ میں COP31 سربراہی اجلاس کی میزبانی کریں گے"
ایردوان نے کہا کہ ترکیہ COP31 کی میزبانی کرے گا اور موسمی تبدیلیوں کو ایجنڈے کے مرکز میں رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 'زیرو ویسٹ' تحریک ایک عالمی شعور اجاگر کرنے والی مہم میں تبدیل ہو چکی ہے۔
“بین الاقوامی سطح پر مصنوعی ذہانت کے لیے معاہدے کی تیاری ضروری ہے”
سوشل میڈیا پر غلط معلومات اور مصنوعی ذہانت کے خطرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایردوان نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے لیے بین الاقوامی مشترکہ قانونی فریم ورک تیار کرنا ضروری ہے۔
"مشکل یہ ہے کہ اس اندھیرے کو روشنی دینے کے لیے ایک موم بتی جلائی جائے"
ایردوان نے کہا کہ دنیا کے سامنے جھڑپ اور اندرونی بندش یا انصاف، یکجہتی اور مشترکہ عزم کے درمیان انتخاب ہے، اور ترکیہ نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا ہے۔
مزید تفصیلات آ رہی ہیں...























