امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ہفتے سے یوکرائن اور روس کے درمیان تین روزہ جنگ بندی ہوگی، اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ روس-یوکرین جنگ ختم کرنے کے لیے طویل المدتی معاہدے کی طرف لے جا سکتی ہے۔
روس اور یوکرین نے اپنے اپنے بیانات میں جنگ بندی اور قیدیوں کے وسیع پیمانے پر تبادلے کی تصدیق کی ہے۔
اس سے قبل روس نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی 9 مئی کی دوسری جنگ عظیم میں فتح کے دن کے موقع پر دو روزہ یکطرفہ جنگ بندی کرے گا۔ یوکرین نے پہلے کہا تھا کہ اس نے بھی ایک عارضی جنگ بندی کی پیشکش کی تھی مگر ماسکو نے اسے نظر انداز کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے میں دو طرفہ طور پر ایک۔ ایک ہزار قیدیوں کا باہمی تبادلہ بھی شامل ہوگا؛ ٹرمپ کو چار سالہ تنازعے کو ختم کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے جبکہ انہوں نے گزشتہ سال دفتر سنبھالنے کے فوراً بعد اسے ایک دن میں حل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ "میں خوشی سے اعلان کرتا ہوں کہ روس اور یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی (9، 10 اور 11 مئی) ہوگی۔"
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ"یہ درخواست میں نے براہِ راست کی تھی، اور میں صدر ولادیمیر پوتن اور صدر وولودیمیر زیلنسکی کے اِس اتفاق پر شکرگزار ہوں۔" میں امید کرتا ہوں کہ یہ بہت طویل، مہلک، اور سخت جدوجہد والی جنگ کے خاتمے کی شروعات ہو گی۔"
جھڑپیں جاری
ٹرمپ کے اعلان سے پہلے جمعہ کو روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر حملے کیے۔
یوکرین نے پہلے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ وہ ماسکو کی مختصر حملے روکنے کی اپیل مان لے گا، اور پوتن پر تنقید کی کہ وہ صرف لڑائی کو وقتی طور پر روکنا چاہتا ہے تاکہ وہ ہفتے کو ریڈ اسکوائر میں سالانہ فوجی پریڈ منعقد کر سکے۔
کیف نے کہا کہ ماسکو نے اس ہفتے کے شروع میں یوکرائن کی جنگ بندی کی پیشکش، یعنی مختصر مدتی جنگ بندی کی پیشکش کو نظر انداز کیا۔ زیلنسکی نے اسے یہ آزمانے کی کوشش قرار دیا تھا کہ آیا کریملن واقعی چار سالہ جنگ میں تھوڑی سا وقفہ دینے کے بارے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔
روس نے دھمکی دی ہے کہ اگر یوکرین نے فتح کی پریڈ میں خلل ڈالا تو کیف کے مرکز پر بڑا حملہ کیا جائے گا، اور بار بار غیرملکی سفارت کاروں سے قبل از وقت یوکرینی دارالحکومت چھوڑنے کو کہا گیا۔
یوکرینی حکام نے کہا کہ اب تک اضافی حفاظتی اقدامات کے احکامات نہیں دیے گئے۔
ادھر یوکرینی فضائیہ کا کہنا ہے روس نے رات بھر میں 67 ڈرون فائر کیے — جو تقریباً ایک ماہ میں سب سے کم تعداد ہے۔
جوابی حملے
زیلنسکی نے کہا کہ" اعلان شدہ جنگ بندی کے باوجود دشمن نے حملہ آور کارروائیوں کی شدت کم نہیں کی، لہذا یوکرین اسی طرح جواب دے رہا ہے۔
روس نے کہا کہ اس نے نصف شب کے بعد سے 400 سے زائد یوکرینی ڈراونز مار گرائے ہیں جن میں سے 100 ماسکو کی طرف نشانہ تھے، اور اس کی فوجیں " جواب دے رہی ہیں"۔
زیلنسکی نے ماسکو کے شمال مشرق میں تقریباً 200 کلومیٹر واقع یاروسلاول علاقے میں ایک تیل کے گودام پر کیے گئے یوکرینی حملے کو سراہا۔
روسی وزارتِ مواصلات نے کہا کہ جمعہ کو جنوبی روس کے قریب 13 ہوائی اڈے بند کر دیے گئے جب ایک یوکرائنی ڈرون نے جنوبی شہر روستوِف-آن-ڈون میں ایک ہوائی نیوی گیشن مرکز کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں وزارت نے کہا کہ پروازیں جزوی طور پر بحال کردی گئی ہیں۔
پوتن نے اس حملے کے سلسلے میں سیکیورٹی کونسل کا اجلاس بلایا اور اسے ایک "دہشت گردانہ کارروائی" قرار دیا جس سے شہری ہوابازی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
بات چیت میں کم پیش رفت
یوکرین نے روس کی عارضی جنگ بندی کو پروپیگنڈے کا اقدام قرار دیا تھا جس کا مقصد 9 مئی کی فتح پریڈ کو بچانا تھا — جو پوتن کے لیے سب سے اہم محبِ وطنی تقریبات میں سے ایک ہے۔
روسی جنگ بندی شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل، زیلنسکی نے ماسکو کے حلیفوں کو پریڈ میں شرکت سے خبردار کیا۔
پوتن نے نازی جرمنی پر سوویت فتح کی یاد کو اپنی 25 سالہ حکمرانی کا مرکزی بیانیہ بنایا ہوا ہے اور وہ 9 مئی کو مرکزی ماسکو میں بڑی پریڈز منعقد کرتے ہیں۔
لیکن تقریباً دو دہائیوں میں پہلی بار پریڈ میں عسکری سازوسامان موجود نہیں ہوگا، اور صرف چند غیرملکی مہمان شرکت کریں گے۔













