صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ روسی فوجی ایک "جارح قوت" کا مقابلہ کر رہے ہیں جسے پورے نیٹو نے ہتھیار بند اور تعاون فراہم کیا ہوا ہے۔
جمعہ کو ریڈ اسکوائر میں سوویت یونین کی دوسری جنگ عظیم کی فتح کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ وکٹوری ڈے پریڈ میں خطاب کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ "فاتحین کی نسل اُن فوجیوں کے لیے مشعل راہ ہے جو آج خصوصی فوجی آپریشن کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔"
انہوں نے کہا کہ "جدید جنگ کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے روسی سائنسدان اور انجینئر جدید ہتھیار تیار کر رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر پیداوار بڑھا رہے ہیں۔"
دوسری جنگ عظیم کے بارے میں بات کرتے ہوئے پوتن نے زور دیا کہ سوویت عوام نے نازی ازم کی شکست میں فیصلہ کن کردار ادا کیا اور اپنے ملک کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو نجات دلائی۔
پریڈ میں چند غیر ملکی رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو، قازقستان کے صدر قاسم ، ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف، لاو کے صدر تھونگلون سیسولیتھ اور ملائشیا کے شاہ سلطان ابراہیم اسکندر شامل تھے۔
پریڈ میں روس کے "خصوصی فوجی آپریشن" میں شامل عملے، اعلیٰ عسکری تعلیمی اداروں کے کیڈیٹس، اور روسی مسلح افواج کی مختلف شاخوں کے ارکان نے حصہ لیا، نیز شمالی کوریا کی فوج کے اہلکار بھی شریک تھے۔
اس سے پہلے، روس کے وزارت دفاع نے پیر کو وکٹوری ڈے تقریبات کے لیے 8-9 مئی پر مشتمل دو روزہ ممکنہ جنگ بندی کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ اگر تقریبات میں خلل ڈالا گیا تو یوکرین کو " بڑے" میزائل ردِ عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسی روز یوکرین نے بھی اعلان کیا کہ وہ منگل کی نصف شب سے یکطرفہ طور پر جنگ بندی کرے گا۔
تاہم بعد ازاں دونوں جانب نے ایک دوسرے پر علیحدہ طور پر اعلان کی گئی جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
''ابھی کوئی تفصیلات نہیں''
جیسا کہ ریاستی خبر رساں ایجنسی طاس نے رپورٹ کیا ہے کہ کریملن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے ہفتے کو کہا کہ ماسکو میں وکٹوری ڈے کی تقریبات میں خلل ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ۔
پیسکوف نے کہا کہ یوکرین کے ساتھ جنگ بندی کو 11 مئی کے بعد بڑھانے کا معاملہ ابھی زیرِ بحث نہیں آیا۔
پوتن اور ٹرمپ کے درمیان رابطوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے پیسکوف نے کہا کہ فی الحال کوئی نئی گفتگو طے شدہ نہیں ہے۔
ٹرمپ کے اُن بیان کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے جن میں انہوں نے ممکنہ طور پر یوکرین کے بارے میں امن مذاکرات کے لیے امریکی وفد کو ماسکو بھیجنے کا اشارہ دیا تھا، پیسکوف نے کہا کہ روس ایسے وفد کی میزبانی کے لیے تیار ہوگا۔
پیَسکوف نے کہا، "ابھی کوئی مخصوص معلومات موجود نہیں، مگر فطری طور پر روس ہمیشہ ایسا کرنے کے لیے تیار ہے۔"










