امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان امن معاہدے کی کوششوں میں ناکامی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 3 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہو گیا ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت 3.14 فیصد اضافے کے ساتھ 104.47 ڈالر جبکہ امریکی خام تیل 3.24 فیصد اضافے کے ساتھ 98.51 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جواب کو "ناقابلِ قبول" قرار دیے جانے کے بعد 10 ہفتوں سے جاری تنازع کے فوری خاتمے کی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔
سعودی آرامکو کے سی ای او کے مطابق، گزشتہ دو ماہ کے دوران عالمی منڈی سے تقریباً 1 ارب بیرل تیل کم ہو چکا ہے، اور سپلائی بحال ہونے کے باوجود مارکیٹ کو مستحکم ہونے میں وقت لگے گا۔
گزشتہ ہفتے کچھ ٹینکرز نے ایرانی حملوں سے بچنے کے لیے اپن ٹریکرز بند کر کے اُس راستے سے سفر کیا جو سپلائی کے سنگین خطرات کو ظاہر کرتا ہے ۔
اب تمام تر توجہ صدر ٹرمپ کے دورہ چین پر ہے،جہاں وہ صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔
ماہرین کو امید ہے کہ چین اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ایران کو جنگ بندی پر آمادہ کر سکتا ہے۔












