اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جب تک ایران کی افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ ختم نہیں ہوتا معاملہ ختم نہیں ہو گا۔
سی بی ایس کے لئے دیئے گئے اور اتوار کو نشر ہونے والے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہاہے کہ "میرے خیال میں ہم نے بہت کچھ حاصل کر لیا ہے۔ لیکن یہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا کیونکہ ایران کے پاس ابھی بھی جوہری مواد، یعنی افزودہ یورینیم، موجود ہے جسے ختم کیا جانا ضروری ہے"۔
نیتن یاہو نے کہا ہے کہ "ایران کے خلاف امریکہ ۔ اسرائیل جنگ کے اہداف میں ایران کے یورینیئم افزودگی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا اور اسے اپنے میزائل اور پراکسی نیٹ ورکوں کی تعمیرِ نو سے روکنا شامل ہے"۔
انہوں نے فوجی منصوبوں کے بارے میں بات کرنے سے انکار کیا اور کہا ہے کہ "اگر کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو صرف اُسی صورت میں کہ جب آپ وہاں جا کر افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کر دیتے ہیں"۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے ہفتے کے روز رشائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو یورینیئم کے ذخیرے کے معاملے میں کوئی رعایت نہ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
امریکی امداد پر نظرثانی
نیتن یاہو نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کا ملک سالانہ 3.8 ارب ڈالر کی امریکی فوجی امداد پر انحصار کو بتدریج ختم کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "میرا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم باقی ماندہ فوجی امداد سے خود کو آزاد کریں اور امداد سے شراکت داری کی طرف بڑھیں"۔
انہوں نے اس کے لیے دس سالہ عبوری مدت تجویز کی اور دعویٰ کیا ہے کہ چین، میزائل پروگرام میں، کسی حد تک ایران کی مدد کر رہا ہے"۔
نیتن یاہو نے سوشل میڈیا اثرات کی وجہ سے "امریکہ میں اسرائیل کی حمایت میں کمی" پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
دوسری جانب ایران نے اتوار کو جاری کردہ بیان میں امریکہ کے تازہ امن منصوبے کے جواب میں امریکہ سے ہرجانے کا مطالبہ کیا اور آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری پر زور دیا ہے۔
تہران نے امریکی منصوبے کو "انتہا پسندانہ مطالبات" قرار دیا اور کہا ہے کہ یہ مطالبات "ایرانی عوام کے بنیادی حقوق" کو نظر انداز کر رہے ہیں۔










