یورپی یونین خارجہ امور و سلامتی پالیسی کی نمائندہ اعلیٰ کایا کلاس نے کہا ہے کہ ہنگری میں حکومت کی تبدیلی کے بعد مہینوں سے جاری تعطل ختم ہو گیا اور توقع ہے کہ پیر کے روز فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں پر نئی پابندیوں کے حوالے سے اتفاقِ رائے طے پا جائے گا۔
کایا کالاس نے یورپی بلاک کے وزرائے خارجہ اجلاس سے قبل جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "مجھے توقع ہے کہ پُر تشدد کاروائیوں میں ملّوث آبادکاروں پر پابندیوں کے حوالے سے ایک سیاسی معاہدہ طے پا جائے گا۔ امید ہے کہ ہم اس میں کامیاب ہوں گے"۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد اور غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں توسیع کے ردِعمل میں اٹھایا جانے والا یہ قدم ہنگری کے سابق وزیرِ اعظم وکٹر اوربان نے روک رکھا تھا۔
اقتدار کی پیٹر ماگیارکو منتقلی کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہنگری کی طرف سے کھڑی کی گئی ویٹو رکاوٹ بھی ختم ہو جائے گی۔
یورپی یونین حکام کے مطابق سات آبادکاروں یا آبادکار تنظیموں پر پابندی کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں یونین ،فلسطین تحریک مزاحمت'حماس' کے نمائندوں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی غزّہ میں شروع کی گئی نسل کُشی کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں تقریباً روزانہ تشدد کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ ان پُر تشدد کاروائیوں میں اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آبادکاردونوں کی شمولیت دیکھی گئی ہے۔
فلسطینی حکام اور اقوام متحدہ کے مطابق، 28 فروری کو ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے مہلک حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔
اگرچہ یورپی یونین اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں جاری رکھے ہوئے ہے لیکن بلاک کے رکن ممالک کے درمیان اسرائیل کے خلاف تجارتی تعلقات محدود کرنے جیسے مزید سخت اقدامات پر تاحال اتفاق نہیں ہو سکا۔










