ترکیہ
6 منٹ پڑھنے
ترکیہ قومی خفیہ سروس کا شام میں آپریشن: داعش کے 10 کارندے ترکیہ لائے گئے
قومی خفیہ سروس نے شام میں شامی انٹیلجنس کے ساتھ مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں ریڈ بلیٹن کے تحت مطلوب 10 داعش رکنوں کو گرفتار کر کے ترکیہ منتقل کیا ہے۔
ترکیہ قومی خفیہ سروس کا شام میں آپریشن: داعش کے 10 کارندے ترکیہ لائے گئے
ترک انٹیلی جنس (MIT) کا سرحد پار داعش کے خلاف آپریشن

سیکورٹی ذرائع سے حاصل معلومات کے مطابق ترکیہ قومی خفیہ سروس نے سرحد پار ایک آپریشن کر کے داعش کے خلاف اہم کامیابی حاصل کی۔

قومی خفیہ سروس نے شام میں شامی انٹیلجنس کے ساتھ مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں ریڈ بلیٹن کے تحت مطلوب 10 داعش رکنوں کو گرفتار کر کے ترکیہ منتقل کیا ہے۔ قومی خفیہ سرو اور  محکمہ پولیس کے دہشت گردی سے نمٹنے والےشعبہ کے مشترکہ کام کے بعد ان میں سے 9 کو حراست کے بعد جیل بھیج دیا گیا جبکہ ایک کے ریمانڈ کی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔

گرفتار شدگان میں سے ایک کا تعلق انقرہ  ریلوے اسٹیشن  حملے سے

قومی خفیہ سروس کی معلومات کی بنیاد پر معلوم ہوا کہ ترک نژاد افراد ترکیہ سے شام گئے اور وہ داعش میں شامل ہو گئے۔ تحقیقات  کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ یہ افراد داعش کے اندر سرگرم رہے اور ماضی میں ترکیہ  میں متعدد دہشت گردانہ واقعات میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔

گرفتار کردہ 10 دہشت گردوں میں سے ایک کا تعلق 2015 میں 109 افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے انقرہ  ریلوے اسٹیشن حملے کے رابطہ کاروں  سے ہے۔

شام میں سرحد پار آپریشن

قومی خفیہ سروس نے  10 داعش ارکان  کی شام میں موجود گی کا پتہ چلایا، جس کے بعد اس نے شامی خفیہ سروس سے رابطہ کیا۔ باہمی تعاون کے تحت  کام شروع کیا گیا اور شواہد کی بنیاد پر ان افراد کے مقام کا تعین ہو گیا۔ دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر قدم بہ قدم نظر رکھی گئی۔

منظم آپریشن کے ذریعے ان  10 داعش اراکین شام میں گرفتار کر کے ترکیہ  لایا گیا ہے۔

ان کارندوں  نے پولیس کو  مندرجہ ذیل بیان ریکارڈ کرائے ہیں:

- داعش سے ملنے والی کارروائی  کی ہدایات

- داعش کے تحت حاصل کردہ عسکری اور دینی تربیت

- داعش کے نام پر انجام دی گئی پروپیگنڈا سرگرمیاں

داعش کے اندر سرگرم اور ریڈ بلیٹن  کے تحت مطلوب 10 افراد درج ذیل ہیں:

· علی بورا — داعش کا ترکیہ سے متعلق مبینہ خفیہ کمانڈر؛ 2014 میں داعش میں شامل ہونے کے لیے شام گیا۔ داعش کے مختلف یونٹس میں خدمات انجام دیں اور متعدد جھڑپوں میں حصہ لیا۔ فاروق آفس کے اندر کام کیا اور مبینہ طور پر ترک مسلح افواج کے خلاف کیے گئے تین الگ الگ حملوں کے منصوبہ سازوں میں شامل رہا۔

· عمر دینز دُندار — 2015 کے انقرہ ریلوے اسٹیشن پر  حملے کے مرتکب سے رابطے میں بتایا گیا؛ 2014 میں داعش میں شامل ہونے کے لیے شام گیا، مختلف یونٹس میں فرائض انجام دیے اور متعدد جھڑپوں میں حصہ لیا۔ فاروق آفس (ترکیہ ولایت) کے اندر کام کیا۔ تحقیق میں پتہ چلا کہ اس کا 2015 کے انقرہ  ریلوے اسٹیشن حملے کے مرتکبوں سے رابطہ تھا اور اس کا تعلق تنظیم کی طرف سے ترکیہ میں متعدد دیگر حملوں سے بھی رہا ہے۔

2017میں ترکی ہمیں ممکنہ حملوں کی روک تھام کے لیے کی گئی کارروائیوں کے دوران جب دو خود کش جیکٹ والے حملہ آوروں کے جسموں پر موجود بم سازوسامان کے فنگر پرنٹس کی جانچ کی گئی تو عمر دینز دُندار کے فنگر پرنٹس بھی ملے۔

· حسین پیری — 2014 میں داعش میں شامل ہونے کے لیے شام گیا۔ داعش کے اندر شعبہ  صحت میں کام کیا۔ 2015 میں PYD/YPG کے ہاتھوں پکڑا گیا اور قید میں رہا۔ بعد ازاں PYD/YPG اور داعش کے درمیان قیدیوں کے  تبادلے کے دوران رہا ہوا اور رہائی کے بعد 2019 تک داعش کے شعبہ  صحت  میں دوبارہ کام کرتا رہا۔

· قدیر گؤزُو قارا — داعش سے وابستہ دوکھوماجی گروپ کے رہنما مصطفیٰ دوکھو ماجی کی رہنمائی میں 2015 میں داعش میں شامل ہونے کے لیے شام گیا۔ معذوری کے باعث اس نے داعش کے اندر مسلح کارروائیوں میں حصہ نہیں لیا مگر شام آنے والےداعش عناصر کی لاجسٹک ضروریات پوری کرنے کا کام انجام دیا۔ مصطفیٰ دوکھو ماجی کی  سرپرستی  میں 2021 تک میڈیا سرگرمیوں پر کام کرتا رہا۔

· عبداللہ چوبان اولو — 2016 میں جنگی علاقوں میں کارروائی کے لیے شام گیا۔ وہاں سیلفی/تکفیری نظریات اپنانے والی تنظیموں میں مسلح طور پر سرگرم رہا۔ اس کے سوار ہونےو الی گاڑی  پر کیے گئے حملے میں اس کی ٹانگ ضائع ہو گئی۔ 2020 میں اس نے داعش کی بیعت کی اور فاروق آفس کے تحت میڈیا یونٹ میں کام کیا۔

· حقّی یُکھ سیک — 2016 میں داعش میں شامل ہونے کے لیے شام گیا۔ داعش کے اندر مسلح کارروائیوں اور جھڑپوں میں حصہ لیا۔ جب تنظیم نے زیرِ کنٹرول علاقے کھو دیے تو اس نے سیل  ڈھانچے میں کام جاری رکھا۔ ایک عرصے کے لیے فاروق آفس (ترکیہ ولایت) کے اندر کام کرتا رہا۔ دوکھو ماجی گروپ کے سرغنہ کا معاون رہا اور حتی  خاص امور بھی سنبھالتا رہا۔

· قدیر دیمیر — 2016 میں شانیقورفہ سے شام کے جنگی علاقوں میں کارروائی کے لیے داخل ہوا۔ عدلیب اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سیلفی/تکفیری گروپوں کے ساتھ مل کر سرگرم رہا۔ 2017 میں اس نے داعش کو بیعت کی اور فاروق آفس (ترکی ولایت) کے اندر انتظامی ذمہ دار کے طور پر کام کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ فاروق آفس کی جانب سے انجام پانے والی کارروائیوں سے بھی منسلک تھا۔

· چیکدار یِلماز — 2017 میں داعش میں شامل ہونے کے لیے شام گیا۔ وہاں عسکری تربیت حاصل کرنے کے بعد عدلیب علاقے میں مسلح عنصر کے طور پر سرگرم رہا۔ 2018 میں داعش کے فاروق نیٹ ورک میں شامل ہو کر میڈیا یونٹ میں کام جاری رکھا۔

· مراد اوزدیمیر — 2017 میں داعش میں شامل ہونے کے لیے شام گیا۔ ادلب میں داعش کے اندر مسلح کارروائیوں میں حصہ لیا۔ تنظیم کے کنٹرول علاقے ختم ہونے کے بعد بھی وہ فاروق آفس  کے اندر سرگرم رہا اور اس کے علاوہ وہ اسد کے انتظامیہ کے خلاف داعش کے اندر کاروائیاں بھی انجام دیتا رہا۔

· اسحاق گنُچی — 2017 میں داعش میں شامل ہونے کے لیے شام گیا۔ داعش کے اندر مسلح عنصر کے طور پر جھڑپوں میں حصہ لیا اور فاروق آفس کے اندر فرائض انجام دیے۔ اس نے اسد انتظامیہ  کے خلاف مارٹر فائرنگ سمیت کارروائیوں میں حصہ لیا اور گرفتار ہونے تک داعش کے اندر سرگرم رہا۔

تفصیلات جاری  ہیں۔۔۔