سیاست
4 منٹ پڑھنے
ٹرمپ نے ایران پر منصوبہ بندی کردہ حملوں کو منسوخ کر دیا، امن کی امید دوبارہ پیدا
ٹرمپ نے کہا کہ 'مباحثے اور آخری نکات' امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر ممالک کی جانب سے منظور کیے جا چکے ہیں۔
ٹرمپ نے ایران پر منصوبہ بندی کردہ حملوں کو منسوخ کر دیا،  امن کی امید دوبارہ پیدا
خلیج میں تیل کی پیداوار کے ایک پلیٹ فارم پر ایرانی پرچم کے ساتھ گیس کا شعلہ دکھائی دے رہا ہے، 25 جولائی 2005ء۔ [فائل] / Reuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کے خلاف منصوبہ بند حملے منسوخ کر دیے ہیں، یہ اعلان ایسے وقت میں آیا جب چند گھنٹے قبل انہوں نے مزید بمباری کی دھمکی اور تیل برآمد کرنے والے مرکز جزیرہ خارگ پر 'قبضہ' کرنے کے ارادے کا اظہار کیا تھا۔

ٹرمپ نے جمعرات کو ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا: 'اس حقیقت کی بنیاد پر کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات ایرانی قیادت کی اعلیٰ سطح تک پہنچا دیے گئے ہیں اور منظور بھی ہو چکے ہیں، میں نے، بحیثیت صدرِ ریاستِ متحدہ امریکہ، آج شام ایران کے خلاف طے شدہ حملے اور بمباری منسوخ کر دی ہے۔'

ٹرمپ نے کہا کہ 'مباحثے اور آخری نکات' امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر ممالک کی جانب سے منظور کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا: 'بحری محاصرے پر مکمل طور پر عمل جاری رہے گا جب تک یہ معاملہ حتمی نہیں ہو جاتا — دستخط کا وقت اور جگہ جلد اعلان کر دیے جائیں گے۔'

اس سے قبل، انہوں نے ایران پر نئے حملوں کی دھمکی دی تھی اور ملک کے اہم تیل کے بنیادی ڈھانچے پر قبضہ کرنے کا عندیہ  بھی  دیاتھا۔

ٹرمپ نے جمعرات کے روز اپنے ٹروتھ سوشل نیٹ ورک پر لکھا تھا:" امریکہ آج رات   ایران پر شدید  حملے کرے گا ۔"

انہوں نے مزید لکھا: 'کسی نہ کسی وقت قریب مستقبل میں ہم جزیرہ خارک اور دیگر تیل کے انفراسٹرکچر کو اپنے قبضے میں لائیں گے، اور وینزویلا کی طرح اُن کے تیل و گیس کی منڈیوں   کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گے۔'

ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ ایران کے تیل ٹرمینلز کو کیسے قبضے میں لے گا، مگر اس قسم کے کسی بھی آپریشن میں بلاشبہ امریکی زمینی فوجی دستوں کی مداخلت درکار ہو گی۔

انہوں نے یہ امکان اس امریکی-اسرائیلی جنگ کے دوران پہلے بھی اٹھایا تھا جو ایران کے خلاف 28 فروری سے شروع ہوئی۔

جزیرہ خارک ایران کی تیل برآمدی صنعت کا مرکز ہے اور ملک کی متاثرہ معیشت کا ایک کلیدی ستون سمجھا جاتا ہے۔ یہ خلیجِ فارس کے ساحلوں  سےآبنائے  ہرمز  کے شمال مغرب میں  واقع ہے۔

امریکہ اور ایران کے مذاکرات  تاحال جاری ہیں

اس سے قبل سی این این نے ایک سفارتی ماخذ کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ حالیہ حملوں کے تبادلے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے لیے مذاکرات راستے پر ہیں۔

حملوں کا تبادلہ دوسرے مسلسل روز بھی جاری رہا، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ واشنگٹن مزید حملے کرے گا جب تک تہران فوراً امن معاہدہ قبول نہیں کرتا۔

ایک بیان میں، امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی افواج نے بدھ کی رات سے جمعرات کے اوائل تک ایران میں متعدد عسکری اہداف پر حملے کیے، اور اِن حملوں کوآبنائے  ہرمز میں ایک امریکی ہیلی کاپٹر کے گرائے جانے کے بعد '  خود' کے طور پر قرار دیا۔

ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ ایران نے معاہدے کے لیے طویل وقت لیا ہے اور اسے قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

اپریل میں پاکستان کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے مذاکرات کا محور اس جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا ،آبنائے ہرمز کی کھلائی کو یقینی بنانا، اور ایران کے جوہری پروگرام پر اتفاق رائے تک پہنچنا رہا ہے۔

دوسری جانب، ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے سی این این کو بتایا کہ جب تک امریکہ ایران کے مفادات کا احترام نہیں کرتا جنگ جاری رہے گی، اور تہران مستقبل میں کسی بھی امریکی حملے کا جواب دے گا۔

محمد مخبر نے کہا: 'جب بھی وہ (امریکہ) حملہ کرتے ہیں، ہم سخت اور شدید انداز میں جواب دیتے ہیں۔' انہوں نے مزید کہا: '(ٹرمپ) کو سمجھ لینا چاہیے کہ اسلامی جمہوریہ اپنی مکمل خودمختاری اور قومی مفادات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اور جارحوں کو پچھتاوا دلائیں گے۔'

انہوں نے کہا: 'اگر وہ ایران کے مفادات کا احترام کریں اور مطابق عمل کریں تو جنگ ختم ہو جائے گی۔ ورنہ، جنگ جاری رہے گی۔'