فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایک مشترکہ حملے میں قتل ہونے والے ایران کےرہبر اعلی علی خامنہ ای کا تابوت آخری رسومات کے لیے دارالحکومت تہران پہنچ گیا ہے۔
خامنہ ای کی ہلاکت کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں ہفتوں تک جاری رہنے والی جھڑپیں ہوئیں اور کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا تھا۔
جمعہ کے روز ہونے والی سرکاری تقریب میں روس، چین، بھارت اور جارجیا سمیت 30 سے زائد ممالک کے رہنماؤں اور نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی بھی ہفتے کے روز ہونے والی جنازے کی تقریب میں شرکت کا منصوبہ ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے کمانڈر انچیف اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے موقف کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرنے والے جنرل احمد وحیدی کو خامنہ ای کے تابوت کے پاس کھڑے تصویر میں دیکھا گیا ہے۔
اپنے والد کی وفات کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای نے ایران کے تیسرے رہبر اعلی کے طور پر عہدہ سنبھال لیا ہے۔
خامنہ ای کی الوداعی تقاریب پہلے تہران اور قمُ میں اور بعد میں بغداد، نجف اور کربلا میں منعقد کی جائیں گی جبکہ تدفین کی تقریب 9 جولائی کو مشہد میں امام علی رضا کے مزار پر ہوگی۔
دوسری جانب، ایران اور امریکہ نے پاکستان اور قطر کی ثالثی سے دوحہ میں بالواسطہ مذاکرات کا ایک سلسلہ مکمل کر لیا ہے۔
ان مذاکرات کا مقصد جون میں طے پانے والی 60 روزہ جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور تنازع کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنا ہے۔












