برطانیہ سے شائع ہونے والے اخبار 'فائنینشل ٹائمز' نے پیر کے روز رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے بیجنگ کی سب سے بلند ترین عمارت سے ایک چھوٹے طیارے کے ٹکرانے کے حادثے کے بعد، چین نے نجی ہوا بازی کے آپریٹرز پر ہلکے فکسڈ ونگ طیارے اڑانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
جمعہ کے روز یہ طیارہ بیجنگ کے سب سے بلند ترین اسکائی اسکریپر 'سی آئی ٹی آئی سی ٹاور' سے ٹکرایا تھا، جسے 'چائنا زون' بھی کہا جاتا ہے۔
اس واقعے میں پائلٹ ہلاک اور دیگر 13 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
چھوٹے پروپیلر والے طیاروں کے تین آپریٹرز اور ایک گلائیڈر کمپنی کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد ان کے طیاروں کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تفریحی پروازوں کا احاطہ کرنے والے ملک گیر فضائی حدود کے کنٹرول کے حکم کے تحت اسکائی ڈائیونگ اور پیرا گلائیڈنگ سروسز کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان پابندیوں کے خاتمے کے لیے کسی مخصوص وقت یا تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
بیجنگ کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
فلائٹ ٹریکنگ سروس 'فلائٹ ریڈار 24کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس واقعے کے بعد، ہفتے کے روز چین میں کارگو اور کمرشل ہوا بازی کے علاوہ دیگر طیاروں کی سرگرمیاں تیزی سے کم ہو گئی تھیں۔







