بیلجیئم کے وزیر خارجہ نے پیر کے روز بیلجیئم اور ترکیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی اقتصادی اور تکنیکی شراکت داری پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کئی اسٹریٹجک شعبوں میں "انتہائی تکمیلی طاقت" رکھتے ہیں۔
ملکہ میتھلڈ کی قیادت میں ترکیہ آنے والے بیلجیئم کے اقتصادی مشن کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے میکسم پِریوُو نے کہا کہ ملکہ کی شرکت اس اہمیت کی عکاسی کرتی ہے جو برسلز انقرہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو طرفہ تعلقات تقریباً دو صدیوں کے سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعاون پر مبنی ہیں جبکہ انہوں نے بیلجیئم میں ترک تارکینِ وطن کے کردار پر بھی زور دیا۔
پِریوو ُنے پانچ ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جن میں گہرے دو طرفہ تعاون کی بھرپور صلاحیت موجود ہے جن میں گرین انرجی کی منتقلی، ایرو اسپیس اور دفاع، بندرگاہیں اور لاجسٹکس، لائف سائنسز اور بائیوٹیکنالوجی، اور ڈیجیٹل تبدیلی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوئی بے ترتیب شعبے نہیں ہیں کیونکہ دونوں ممالک عالمی معیار کی مہارت اور جدت کے حامل ہیں۔
پریوو نے بتایا کہ 2025 میں ترکیہ سے بیلجیئم کے لیے برآمدات 6.5 بلین یورو تک پہنچ گئیں، جو بنیادی طور پر فارماسیوٹیکلز اور کیمیکلز پر مبنی تھیں جبکہ بیلجیئم سے ترکیہ کے لیے برآمدات مجموعی طور پر 5.6 بلین یورورہیں جن میں گاڑیاں اور بنیادی دھاتیں سرفہرست تھیں۔
انہوں نے کہا کہ بیلجیئم ترکیہ میں آٹھواں سب سے اہم سرمایہ کار بھی ہے۔
پریوو نے بیلجیئم میں ترکیہ کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کا بھی خیرمقدم کیا اور ایسے منصوبوں کا حوالہ دیا جن سے سینکڑوں ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ ترک کمپنیاں اب بیلجیئم میں سرمایہ کاری شروع کر رہی ہیں۔
بیلجیئم-ترکیہ بزنس فورم میں، دو طرفہ تجارتی تعلقات کی ترقی پر ایک مشترکہ اعلامیے پر ترک وزیر تجارت عمر بولات، بیلجیئم کے وزیر خارجہ پریوو، اور بیلجیئم کے وزیر دفاع تھیو فرینکن نے دستخط کیے۔















