اسپین نے شمالی افریقہ میں واقع ہسپانوی علاقے سیوتا میں مہاجرین کے ایک بڑے ہجوم کو پلٹا دیا ہے، اور سرحد کو خشکی اور سمندر کے راستے عبور کرنے والے 50,000 سے زائد افراد میں سے زیادہ تر پہلے ہی رضاکارانہ طور پر واپس جا رہے ہیں۔
ہسپانوی وزارتِ داخلہ نے جمعہ کو کہا کہ جمعرات کی صبح سے تقریباً 50,000 افراد سرحد عبور کر چکے تھے، اور اندازہ ہے کہ جمعہ شام 6 بجے تک 48,300 واپس لوٹ چکے تھے۔
سیوتاکی مقامی حکومت کے سربراہ خوان جیسس ویواس نے کہا کہ پچھلے چند دنوں میں تقریباً 60,000 افراد سرحد کو پار کر گئے تھے۔
سیوتا میں اسپین کی مرکزی حکومت کے نمائندے نے جمعہ کو کہا کہ سرحد کے ہسپانوی جانب 57 لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور مراکشی جانب ممکنہ طور پر مزید لاشیں موجود ہو سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ افراد ڈوب گئے اور کچھ سرحدی باڑ کو سپورٹ کرنے والی دیوار پر چڑھنے کی کوشش کے دوران کچلے گئے۔
مراکشی فورسز نے سیوتاکے دروازوں پر بھیڑ کو لاٹھیوں اور آنسو گیس سے پیچھے دھکیلا، اور اس چھوٹے سے ہسپانوی علاقے میں مزید داخلے کو روکنے کی کوشش کی جو مراکش سے بحیرہ روم میں ریت کے ایک نوک دار خطے پر واقع ہے۔
سرحد پر اس ہجوم نے یورپ میں اختلافات پیدا کر دیے،جہاں دوسرے یورپی یونین کے رہنماؤں نے اسپین سے کہا کہ وہ اس چیز کو اپنے کنٹرول میں لے۔
اٹلی نے کہا کہ وہ اسپین کے ساتھ یورپی اتحاد کے بغیر سرحدی شینگن انتظامات معطل کر رہا ہے، ایک اقدام جو دونوں ممالک کے درمیان ہوائی یا بحری سفر کرنے والے افراد کو متاثر کرے گا۔
میڈرڈ نے کہا کہ یہ اقدام یورپی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔
مراکشی پولیس کی کارروائی
رائٹرز نیوز ایجنسی نے اس علاقے کی سرحد پر مشاہدہ کیا کہ مراکشی پولیس نے ہنگامی سازوسامان پہن کر باڑ کے قریب جمع کچھ لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ واٹر کینن ٹرکس تعینات کیے گئے اور بھیڑ کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں ایک بس اور سات گاڑیوں کو جل کر تباہ ہوئے دیکھا گیا۔
دوسری طرف، ہسپانوی فوجی گاڑیاں سرحد کے مختلف حصوں کے ساتھ قطار در قطار کھڑی تھیں جب درجنوں مہاجر مراکش کے ایک ٹیلے سے دیکھ رہے تھے اور عبور نہ کر سکے۔
کئی سو افراد سرحدی راستوں اور باڑ میں بنے سوراخوں کے ذریعے مراکش واپس جاتے دکھائی دیے، بعض نے کہا کہ وہ سیوتامیں کھانا یا پناہ تلاش نہ کر سکے۔
ایک نوجوان مراکشی شخص نے رائٹرز کو بتایا کہ"سچ کہوں تو مجھے خود بھی معلوم نہیں مجھے کیوں آنا پڑا، اب میں واپس جا رہا ہوں ۔ "میں نے کل دوپہر کے بعد سے کچھ نہیں کھایا، حالانکہ میرے پاس کچھ پیسے تھے ... جو ہم کر رہے ہیں وہ نہ تو اچھا ہے اور نہ ہی خوشگوار۔"
ایک 20 سالہ حجام جو ساحلی شہر لاراشے سے تھا نے رائٹرز کو کہا کہ وہ بدھ کو پانچ گھنٹوں کی تیراکی کے بعد وہاں پہنچا تھا۔
اس نے کہا کہ"سیوتا میں خوردنی اشیاء دستیاب نہیں تھیں اور ہمیں (ہسپانوی) فوج نے بہت برے طریقے سے باہر نکالا۔"
ہسپانوی وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز نے جمعہ کو سیوتا کا دورہ کیا
انہوں نے اس بڑے پیمانے پر سرحد پار کرنے کو 'اسپین کی زمینی خودمختاری کی خلاف ورزی' قرار دیا اور کہا کہ مراکش کے مکمل تعاون کے ساتھ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کی وطن واپسی تیز کی جا رہی ہے،
سیوتا اور میلیا، شمالی مراکش میں اسپین کے خود مختار شہر، یورپی یونین کی افریقہ کے ساتھ واحد زمینی سرحدیں ہیں۔ دونوں جگہیں وقفے وقفے سے ایسے مہاجرین کی کوششوں میں اضافے کا سامنا کرتی ہیں جو یورپ پہنچنا چاہتے ہیں، لیکن جمعرات کے ہجوم کی جسامت بظاہر بے مثال تھی۔
براعظم بھر میں دائیں بازو کی جماعتوں نے واقعہ کو اسپین کی نسبتاً نرم ہجرتی پالیسیوں کی وجہ قرار دیا، جن میں اس سال لاکھوں مہاجرین کو دی گئی معافی بھی شامل ہے۔
اسپین نے اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی کے پہلے کیے گئے بیانات پر احتجاج کرنے کے لیے اطالوی سفیر کو طلب کیا، جنہوں نے کہا تھا کہ اسپین کی معافی پالیسی نے 'انسانی اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی' کی ہے۔
























