سیاست
3 منٹ پڑھنے
میلونی: ٹرمپ کے تبصروں سے مجھے ' سخت حیرانگی' ہوئی ہے
اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی کا کہنا ہے کہ وہ امریکی صدر کے ساتھ بحث کو جاری رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتیں، اس مباحثے سے ہمارے باہمی تعلقات متاثر نہیں ہوں گے۔
میلونی: ٹرمپ کے تبصروں سے مجھے ' سخت حیرانگی' ہوئی ہے
تنازعے کے باوجود، میلونی نے زور دیا کہ اٹلی کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ (تصویر: فائل) / AP

اطالوی وزیرِ اعظم جورجیا میلونی نے کہا ہے کہ وہ فرانس میں پچھلے ہفتے گروپ آف سیون (G7) کے اجلاس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ تبصروں نے  انہیں"واقعی میں چونکا " دیا تھا مگر اس واقعے سے روم کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

ANSAکی ایک رپورٹ کے مطابق، میلونی نے اُن رپورٹس کا جواب دیا جن میں ٹرمپ کے اس دعوے کا حوالہ تھا کہ اُنہوں نے اجلاس کے دوران ٹرمپ کے ساتھ تصویر اتروانے کے لیے  'منت سماجت'  کی تھی۔  میلونی نے پہلے ہی اس دعوے کو  سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

میلونی نے کہا، "میں واقعی سچے دل سے چونک گئی تھی۔  یہ میرا مخلصانہ رد عمل تھا۔"

میلونی نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے واقعے کے بارے میں رپورٹس اور آن لائن بحث و مباحثے، بشمول وائرل ویڈیوز، کو پڑھا اور دیکھا ہے۔

انہوں نے کہا، “میں نے مختلف رپورٹس پڑھی، جن میں مبینہ طور پر وائرل ہونے والی ویڈیوز بھی شامل تھیں، جن میں میرا مؤقف بسا اوقات جارحانہ محسوس ہو سکتا تھا، اس کے بجائے ان رپورٹس کے جو مبینہ طور پر اسے ' ایران کے ساتھ مذاکرات کی پیش رفت سے توجہ ہٹانے، نیٹو کے اندر مشکلات پر توجہ مرکوز کرنے 'کے طور پر بیان کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: "میں پہلےبھی  کہہ چکی ہوں اور اعادہ  کر چکی ہوں کہ میں اس بحث کو مزید ہوا نہیں دینا چاہتی۔"

تنازعے کے باوجود، میلونی نے زور دیا کہ اٹلی کی خارجہ پالیسی بلا تبدیلی قائم رہے گی۔

انہوں نے کہا،"میں اپنا  موقف نہیں بدلوں گی، تا ہم اطالوی خارجہ پالیسی  گزشتہ  80 سالوں کی طرح برقرار رہے گی: امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان مضبوط تعلق کو برقرار رکھنا ہی مغرب کی طاقت کی بنیاد ہے۔"

تلخ جملوں کا تبادلہ

اتوار کو ٹرمپ نے میلونی پر ان کی اُن درخواستوں کو مسترد کرنے پر تنقید کی جو ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی کوششوں سے متعلق تھیں۔ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا: "نیٹو پر کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد، اٹلی، اور اس کی وزیرِ اعظم،  اسلامی جمہوریہ ایران اور اُن کے بڑےسنگین جوہری خطرے میں  ہمارے ساتھ شراکت داری کے بارے میں سوچ  بھی نہیں   رکھیں گی۔"

قائدین نے حالیہ ایام میں ایک دوسرے پر کڑی نکتہ چینی کی۔ معاملہ بڑھتے ہوئے اس مقام تک پہنچا جہاں میلونی نے ٹرمپ پر 'بے معنی' اور 'مسلسل، بل اشتعال کے حملوں' کا الزام لگایا، جبکہ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ میلونی نے تصویر کے لیے 'منت سماجت' کی۔

تاہم، ANSA نے پیر کو رپورٹ کیا کہ ان دونوں رہنماؤں کے درمیان اس نوعیت کے تبادلوں کا امریکی تعلقات پر اثر نہیں ہونا چاہئے۔ میلونی نے کابینہ کے اجلاس میں وزراء سےکہا، "قائدین کے درمیان الزام تراشی کا تبادلہ حکومت کے امریکہ کے ساتھ تعلقات   کومتاثر نہیں کرنا چاہیے۔"

 

دریافت کیجیے
فرانس: گرمی کی شدت میں اضافہ،عوام پریشان
ایران نے ایٹمی ایجنسی کی ٹیم کےملک میں آنے پر رضا مندی ظاہر کر دی
یونانی عدالت نے اقلیتی ترک شہریوں کو مذہبی پالیسی کے خلاف خلاف احتجاج کرنے پر سزا سنا دی
سوٹزرلینڈ میں ایران۔امریکہ مذاکرات، پاکستان اور قطر کا مشترکہ بیان
عالمی کپ 2026:مصر نے نیوزی لینڈ کو 1-3 سے ہرا دیا
اسرائیلی فوج نے دو فلسطینیوں کو قتل کر دیا
قطر : صنعتی پلانٹ میں دھماکہ، درجنوں زخمی اور لاپتا
اسٹارمر مستعفی ہو جائیں گے:ٹرمپ
ماسکو کے ہوائی اڈوں کو قلیل مدت کے لیے بند کر دیا گیا، تقریباً 60 ڈراونز کو مار گرایا گیا ہے، روس
فلپائن میں اسکول میں فائرنگ کے واقعے میں تین افراد ہلاک، متعدد زخمی
ہم، لبنان میں فوجی مداخلت کے موقف کی طرف واپس پلٹنا نہیں چاہتے:شرع
ایرانی مذاکراتی وفد اور امریکی نائب صدر وینس سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے
لبنان کے متعدد علاقوں پر اسرائیلی حملے، 7 افراد ہلاک
اٹلی نے 8 شہروں میں 'ریڈ الرٹ' جاری کر دیا
ترکیہ: وزیر خارجہ فیدان قاہرہ میں