فلسطینی قیدیوں کو پھانسی کی اجازت دینے والا اسرائیلی قانون اتوار کے روز سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔
روزنامہ 'دی ٹائمز آف اسرائیل' کے مطابق، اسرائیلی فوج کی مرکزی کمان کے علاقائی کمانڈر میجر جنرل آوی بلتھ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں پھانسی کے قانون کے نفاذ کے لیے ضروری فوجی حکم نامے پر دستخط کر دیئے ہیں۔
فوجی حکم کے تحت، اسرائیلی ہلاکتوں سے متعلقہ مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالتیں عمر قید کی اجازت دینے والے"خصوصی حالات"کی عدم موجودگی میں سزائے موت کو "واحد قابلِ اطلاق سزا" کے طور پر سنانے کی پابند ہوں گی۔
قانون صرف فلسطینیوں کو نشانہ بناتا ہے
اسرائیلی اخبار ہیرٹز کی خبر میں کہا گیا ہے کہ یہ حکم مقبوضہ مغربی کنارے کی عدالتوں کو اُن فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا اختیار دیتا ہے جنہیں "ریاستِ اسرائیل کے وجود سے انکاری" ہونے کی وجہ سے اسرائیلیوں کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا ہو۔
اخبار نے کہا ہے کہ قانون کی زبان تقریباً مکمل طور پر فلسطینیوں کو ہدف بنانے کے انداز میں تیار کی گئی ہے۔ خبر کے مطابق، قانون میں شامل نظریاتی ثبوت کی شرائط کی وجہ سے اس قانون کا انتہا پسند یہودی حملہ آوروں پر اطلاق "مشکل ہی نہیں تقریباً ناممکن"ہے۔
ہیرٹزنے مزید لکھا ہے کہ اسرائیلی قانونی اور سکیورٹی ماہرین نے کنیسٹ کے قوانین کو مقبوضہ مغربی کنارےمیں غیر اسرائیلی شہریوں پر لاگو کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دیرینہ پالیسی سے ایک بڑا انحراف
اخبار کے مطابق، اتوار کے روز' کنیسٹ قومی سکیورٹی کمیٹی' کے اجلاس میں قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں شہری قوانین کا نفاذ، اسرائیل کی دیرینہ پالیسی سے ایک بڑے انحراف کی علامت ہے۔
مارچ میں کنیسٹ سے منظور شدہ اس قانون کے تحت اسرائیلیوں کے خلاف مہلک حملوں کے الزام میں گرفتار فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کو بنیادی سزا بنا دیا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے کنیسٹ نے ایک اور قانون بھی منظور کیا تھا جس کے تحت اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں ملوث قرار دیئے گئے فلسطین تحریک مزاحمت 'حماس'کی ایلیٹ یونٹ کے ارکان کے لئے خصوصی فوجی عدالت قائم کرنے کی منظوری دی تھی۔
انسانی حقوق کی فلسطینی اور اسرائیلی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت اسرائیلی جیلوں میں 350 بچوں اور 73 عورتوں سمیت 9 ہزار 600 سے زائد فلسطینی قید ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق ان قیدیوں کو تشدد، بھوک اور طبی غفلت کا سامنا ہے۔














