چین کے صدر شی جن پنگ نے دارالحکومت بیجنگ میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سربراہی ملاقات کے بعد امریکہ کے ساتھ باہمی تعلقات میں "ایک نیا طرزِ عمل اپنانے" کو سراہا ہے۔
شی جن پنگ نے کہا ہے کہ وہ اور ٹرمپ آئندہ تین برسوں اور اس کے بعد بھی دوطرفہ تعلقات کی رہنمائی کے لئے "تعمیری اسٹریٹجک استحکام" قائم کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔
صدر شی نے گرینڈ عوامی ہال میں خطاب کے دوران زور دیا ہےکہ چین اور امریکہ کو "حریف نہیں بلکہ شراکت دار" ہونا چاہیے۔ باہمی تعاون میں دونوں ممالک کا فائدہ اور تصادم میں دونوں کا نقصان ہے۔
شی نے تجارت، صحت، زراعت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تعاون بڑھانے کی اپیل کی اور " دوطرفہ مفاد کے اصول" پر مبنی اقتصادی تعلقات کا ذکر کیا ہے۔
انہوں نے تائیوان کے مسئلے پر بھی بات کی اور خبردار کیا ہےکہ اگر اس معاملے کو غلط طریقے سے سنبھالا گیا تو دونوں طاقتوں کے درمیان خطرناک تصادم پیدا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس معاملے میں "انتہائی احتیاط" برتنے کی ضرورت ہے۔
شی جن پنگ نے کہا ہے کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ مل کر 2026 کو دوطرفہ تعلقات کے لئے "تاریخی موڑ" بنانے اور عالمی استحکام میں ایک نئے باب کا آغاز کرنے کے خواہاں ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ، جزیرہ نما کوریا کی صورتحال، اور روس۔یوکرین جنگ سمیت علاقائی و عالمی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا ہے۔
اس سربراہی اجلاس میں امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کے علاوہ ایلون مسک، ٹم کوک اور جنسن ہوانگ سمیت ممتاز امریکی کاروباری شخصیات نے بھی شرکت کی۔












