دنیا
5 منٹ پڑھنے
چین: شی اور ٹرمپ رابطے اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر متفق ہو گئے ہیں
صدر شی اور صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی و علاقائی امور پر رابطے اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے: چین وزارت خارجہ
چین: شی اور ٹرمپ رابطے اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر متفق ہو گئے ہیں
چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیجنگ، چین کے ژونگ نان ہائی گارڈن کے دورے کے دوران ایک ملاقات میں شریک ہیں، 15 مئی 2026۔ / Reuters

چین نے کہا ہے کہ صدر شی اور صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی و علاقائی امور پر رابطے اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

چین وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ صدر شی جن پنگ اور ان کے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ کے سائے میں منعقدہ مذاکرات میں  بین الاقوامی و علاقائی امور پر رابطے اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

چین وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق جمعرات کو اور 2017 کے بعد کسی امریکی صدر کا پہلے دورہ چین کے دوران ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے بالخصوص دونوں ممالک اوربالعموم  پوری  دنیا کی دلچسپی کے بنیادی مسائل پر "تفصیلی تبادلۂ خیال" کیا ہے۔فریقین متعدد "نئی مشترکہ مفاہمتوں" تک پہنچے ہیں۔

بیان میں کہا گیا  ہےکہ رہنماؤں نے  آئندہ تین برسوں اور اس کے بعد کے عرصے میں  چین۔امریکہ تعلقات کی اسٹریٹجک سمت، تعلقات کے استحکام، صحت مند اور پائیدار ترقی کے فروغ  اور مزید پُرامن، خوشحال اور ترقی یافتہ دنیا  کے زیرِ مقصد ، اسٹریٹجک استحکام پر مبنی تعمیری چین۔امریکہ تعلقات کے قیام کے ایک نئے وژن پر اتفاق کیا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا ہے کہ ٹرمپ اور شی نے باہمی خدشات کو مناسب انداز میں حل کرنے کے حوالے سے بھی اہم مشترکہ مفاہمت حاصل کی ہے۔ دونوں صدور کے درمیان رابطے نے باہمی تفہیم، اعتماد ، عملی تعاون، دونوں ممالک کے عوامی فوائد میں اضافے اور اسٹریٹجک استحکام پر مبنی چین۔امریکہ تعلقات کی تعمیر کے معاملے میں ایک نقطہ نظر عطا کیا ہے۔

جمعرات کو گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ شی جن پنگ نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ بیجنگ ایران کو فوجی سازوسامان فراہم نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی حمایت کرتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ"انہوں نے کہا کہ وہ فوجی سازوسامان فراہم نہیں کریں گے۔ یہ ایک بہت بڑا بیان ہے۔"

چین: ایران جنگ جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں

دوسری جانب، چین نے جمعہ کے روز   بیجنگ سربراہی اجلاس کے آخری روز جاری کردہ بیان میں کہا  ہےکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنا بے معنی ہے۔"

اس سوال کے جواب میں کہ" آیا ایران کے معاملے پر گفتگو ہوئی اور بیجنگ کا اس جنگ کے بارے میں کیا مؤقف ہے؟" چین وزارتِ خارجہ کے ترجمان نےکہا ہے کہ "اس تنازعے کو،  جو ہونا ہی نہیں چاہیے تھا،جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے"۔

ترجمان نے کہاہے کہ"اس بحران کے جلد حل کے لیے راستہ تلاش کرنا نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ علاقائی ممالک اور باقی دنیا کے بھی مفاد میں ہے۔"

انہوں نے زور دیا  ہےکہ اب مذاکرات کا دروازہ کھل چکا ہے اور "اسے دوبارہ بند نہیں ہونا چاہیے۔" ترجمان نے کشیدگی کم کرنے کی رفتار برقرار رکھنے اور سیاسی حل کی تلاش جاری رکھنے کی بھی اپیل کی اور کہا  ہےکہ ایران کے جوہری مسئلے اور دیگر خدشات پر معاہدے کے لیے مذاکرات اور مشاورت جاری رہنی چاہیے۔

ترجمان نے "بین الاقوامی برادری کی اپیل کا جواب دینے اور عالمی رسدی زنجیر کو مستحکم اور بلا تعطل رکھنے کے لیے بحری راستوں کو جلد از جلد دوبارہ کھولنے" کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ"جلد از جلد جامع اور مستقل جنگ بندی ، مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کی بحالی  اور خطے کے لیے پائیدار سکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد رکھنا  نہایت ضروری ہے۔"

ٹرمپ نے جمعرات کو فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ شی جن پنگ "ایک معاہدہ ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔"
ٹرمپ نے کہا تھا کہ"شی نے کہا ہے کہ اگر میں کسی بھی طرح مدد کر سکتا ہوں تو میں مدد کرنا چاہوں گا۔' جو ملک اتنا زیادہ تیل خریدتا ہے، اس کا یقیناً کسی نہ کسی نوعیت کا تعلق ہوتا ہے، لیکن وہ بھی چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے۔"

سفارتی روابط اور علاقائی پس منظر

چینی صدر نے اپنے امریکی ہم منصب کے اعزاز میں سرکاری استقبالیہ اور ضیافت کا اہتمام کیا، دونوں رہنماؤں نے جمعرات کو ملاقاتیں کیں اور ٹیمپل آف ہیون کا دورہ بھی کیا۔

جمعہ کو دونوں رہنما استقبالیہ تقریب اور یادگاری تصویر میں شریک ہوئے۔ بعد ازاں شی جن پنگ نے ٹرمپ کی چائے کی خصوصی نشست اور ورکنگ لنچ میں میزبانی کی۔ توقع ہے کہ اس پروگرام کے بعد ٹرمپ بیجنگ سے روانہ ہو جائیں گے۔

شی اور ٹرمپ گزشتہ سال جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں منعقدہ ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن ایپک سربراہی اجلاس کے موقع پر بھی ملاقات کر چکے ہیں۔

ٹرمپ کا یہ دورہ چین  ایسے وقت میں ہوا  ہے کہ جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی، ایران نے خلیج میں اسرائیل اور امریکہ کے اتحادیوں کے خلاف جوابی کارروائیاں کیں اور آبنائے ہرمز کی بندش سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

فی الحال خطے میں غیر معینہ مدت کے لیے جنگ بندی نافذ ہے

دریافت کیجیے
چینی صدر سے ملاقات میرے لیے اعزاز کی بات ہے:ٹرمپ
بھارت میں تیز ہواؤں کےجھکڑوں  نے 90 افراد کی جان لے لی
آسٹریلیا کا ہرمز مشن کے لیے نگراں طیارے تعینات کرنے کا اعلان
آبنائے ہرمز کو بطور ہتھیار  استعمال نہیں کیا جانا چاہیئے:فیدان
ٹرمپ کا مطالبہ:چین اپنی منڈی امریکی کاروبار کےلیے کھول دے
دہشتگردی میں افغانستان ملوث ہے: پاکستان
جنگ بندی کے باوجود لبنان پر حملے،14 افراد ہلاک
نیو یارک ٹائمز  کے صفحات پر"فلسطینیوں کا جنسی استحصال"
ٹرمپ نےوینیزویلا کو  امریکہ کی"51 ویں" ریاست قرار دے دیا
لیمین یامال نےجیت کی خوشی میں فلسطینی پرچم لہرادیا
جنگ بندی ختم ہوتے ہی روس نے  یوکرین پر ڈرون حملہ کر دیا
یورپی یونین "یہود دشمن" ہے: ایتمار بن گویر
قانون سازوں نے اسٹارمر سے استعفی کا مطالبہ کر دیا
ایران جنگ کی لاگت سے امریکی شہریوں کو 37 بلین ڈالر سے زیادہ کی اضافی توانائی کی قیمتوں کا سامنا ہے — رپورٹ
بیلجیئم ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے:میکسیم پرِیوُو