امریکہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان پہلے دن کے مذاکرات "مثبت" رہے ہیں اور دوسرے دن کے مذاکرات بھی منصوبے کے مطابق جاری رہیں گے۔
امریکہ وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ"ہم نے صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک ایک نتیجہ خیز اور مثبت مذاکراتی دن گزارا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ سلسلہ کل بروز جمعہ بھی جاری رہے گا اور اس وقت تک ہمارے پاس جاری کرنے کے لئے مزید معلومات ہوں گی۔"
دونوں ممالک نے واشنگٹن میں وزارتِ خارجہ کے ہیڈکوارٹر میں مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ ان مذاکرات کو 14 اور 23 اپریل کو ہونے والے دو ابتدائی ادوار کے بعد امن مذاکرات کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق، 2 مارچ سے اب تک اسرائیل کے اندھا دھند حملوں میں 2,896 سے زائد افراد ہلاک، 8,824 سے زیادہ زخمی اور تقریباً 16 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ یہ بے گھر افراد کل آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ ہیں۔
اسرائیلی فوج لبنان پر روزانہ حملے کر کے 17 اپریل کو نافذ کی گئی اور بعد ازاں 17 مئی تک بڑھائی گئی جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے۔
مذاکارت کے دوران بھی اسرائیل لبنانیوں کو قتل کر رہا ہے
واشنگٹن میں حکام کے درمیان مذاکرات کے دوران اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان پر حملہ کر کے تین افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔
لبنان قومی خبر رساں ایجنسی 'این این اے' کے مطابق ایک اسرائیلی جنگی طیارے نے صور شہر کے علاقے صریفا میں عزالدین رہائشی کمپلیکس کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایجنسی کے مطابق، رہائشی عمارت مکمل طور پر تباہ ہونے کے بعد اسلامی رسالہ اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کی امدادی ٹیموں نے ملبے سے دو لاشیں نکالی ہیں۔
این این اےکے مطابق زراریہ قصبے میں ایک اور اسرائیلی حملے میں ایک شخص ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔
اسی قصبے میں شہری دفاع کے ایک مرکز پر حملے میں طبّی عملے کے 2 ارکان زخمی ہوگئے اور کفر ملکی قصبے میں ایک اور حملے میں تین افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی جنگی طیاروں نے لبنان کے مشرقی علاقے مغربی بقاع میں واقع عین التینہ، یحمر، لوبایا اور صہمور قصبوں پر بھی حملے کئے ہیں۔











