الجزائر میں جنگلاتی آگ کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
الجزائر کے وزیر داخلہ سعید سیود نے بدھ کو رات دیر گئے جاری کردہ بیان میں کہا ہےکہ شمالی افریقہ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی گرمی کی شدید لہر کے باعث الجزائر کے مختلف صوبوں کے جنگلات آگ کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ آگ کے نتیجے میں اس وقت تک کم از کم 12 افراد ہلاک ہو چُکے ہیں۔
الجزائر کی شہری دفاعی سروسز نے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ملک بھر میں 154 مقامات پر آگ بھڑک رہی ہے۔ صرف صوبے بجایہ کے ہیں 36 مقامات آگ کی لپیٹ میں تھے جن میں سے 18 پر قابو پالیا گیا ہے۔فائر فائٹر ملک بھر میں کم از کم 69 مقامات پر آگ بجھانے کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
بجایہ کے علاقے تین سال قبل بھی شدید آگ کی لپیٹ میں آ گئے تھے جس نے وسیع جنگلاتی و زرعی اراضی کو جلا کر خاکستر کر دیا تھا۔ شدید آگ کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ الجزائر میں موسمِ گرما کے دوران جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات ایک معمول کی بات ہیں لیکن موسمیاتی تبدیلیوں نے حالیہ برسوں میں ملک میں جنگلاتی آگ کی شدت اور سنگینی میں اضافہ کر دیا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO) کے مطابق شمالی افریقہ میں شدید گرمی اب عام ہوتی جا رہی ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ شمالی افریقہ نے 1991 سے 2025 کے درمیان افریقہ کے چھ ذیلی خطوں میں فی دہائی 0.43 ڈگری سیلسیس کے حساب سے درجہ حرارت میں تیز ترین اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔
بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور پانی کی قلت الجزائر میں گرمی کی لہروں کے دوران اونٹوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافے کا سبب بھی بن رہی ہے۔


















