نیپال میں چین کی سرحد کے قریب آنے والے اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے بعد سیاحوں اور مسافروں کے ساتھ ساتھ فوجیوں اور پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 384 افراد لاپتہ بتائے جاتے ہیں۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ کم از کم 270 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ بدھ کے روز نیپال اور چین کے تبت کے درمیان ہمالیائی سرحدی علاقے میں آنے والے اچانک سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 270 ہو گئی ہے۔
نیپال کے وزیر خارجہ ششیر کھنال نے پارلیمنٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے بیرکیں بہہ جانے کے بعد حکام، فوجی اور پولیس اہلکار بھی لاپتہ افراد میں شامل ہیں۔
دوسری جانب، نیپال ٹورازم بورڈ نے ایک الگ بیان میں کہا ہے کہ 384 افراد لاپتہ کے طور پر درج ہیں۔
بورڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ حکام متاثرہ علاقوں میں موجود یا وہاں سے گزرنے والے سیاحوں اور مسافروں کے ٹھکانے اور ان کی حفاظت کی تصدیق کے لیے کام کر رہے ہیں۔"
کھنال نے بتایا کہ رسووا ضلع میں سیلاب کے نتیجے میں بیرکیں بہہ جانے کے بعد 29 پولیس اہلکاروں اور نیپال فوج کے 44 جوانوں کا بھی کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔
سرکاری اندازوں کے مطابق، 19 پل تباہ ہو چکے ہیں، 40 کلومیٹر سڑک کو نقصان پہنچا ہے اور 13 ہائیڈرو پاور پلانٹس متاثر ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ تقریباً 200 ٹرک بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں۔
کھنال نے بتایا کہ بدھ کے روز سرحدی علاقے میں آنے والے زلزلے کے باعث برفانی تودہ گرا۔
بیجنگ اس خطے کو شیزانگ خود مختار علاقہ کہتا ہے۔
کھنال نے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے کئی ہائیڈرو پاور پلانٹس، عوامی عمارتیں اور سڑکیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔"
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، چین کے تبت کے علاقے سے متصل نیپال کے گاؤں کوڈاری میں مقامی وقت کے مطابق صبح 8:37 بجے 4.4 شدت کا زلزلہ آیا۔
سرحد کے دونوں جانب بڑے پیمانے پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔
لاپتہ افراد میں نیپال، بھارت، برطانیہ، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور نیدرلینڈز کے شہری شامل ہیں، جبکہ کئی افراد کی قومیت کا ابھی تعین نہیں ہو سکا ہے۔
جنوبی کوریا کی نیوز ایجنسی یونہاپ نے جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا کہ آٹھ جنوبی کوریائی شہریوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے جبکہ 10 افراد نیپال میں سیلاب کے باعث پھنسے ہوئے ہیں۔
کھنال نے بتایا کہ سیلاب نے رسووا، دھادنگ اور چتوان کے اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔















