نیپال میں اچانک آنے والے سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 270 اور لاپتہ افراد کی تعداد 1300 سے بڑھ گئی ہے۔
نیپال اور چین کی سرحد کے ساتھ آنے والے اچانک سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 270 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 1300 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ ہیلی کاپٹروں اور ڈرونوں کی مدد سے جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جمعرات کو بھی جاری رہا۔
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (NDRRMA) نے 168 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سیاحوں، غیر ملکی شہریوں، سول اہلکاروں، فوجیوں، پولیس اہلکاروں اور مقامی باشندوں سمیت 1300 سے زائد افراد لاپتا ہیں۔
چین کی جانب سے بھی 558 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔
سیلاب کیسے آیا؟
اخبار ہمالین ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیلاب ایک ہمالیائی گلیشیئر سے برف کے ایک بڑے حصے کے ٹوٹ کر گرنے کے بعد آیا ہے۔ برف کا یہ تودہ رسووا۔رسوواگڑھی سرحدی گزرگاہ سے تقریباً 20 کلومیٹر شمال مشرق میں ٹوٹا اور اس کے نتیجے میں بھوٹیکوشی دریا میں ٹنوں برف اور چٹانیں جا گریں، جس سے سیلاب آیا ہے۔
حکومت نے بتایا کہ علاقے میں رہنے والے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لیے فوج اور نجی ہیلی کاپٹر آپریٹرز کو متحرک کیا گیا ہے۔
نیپالی فوج اور نجی ہیلی کاپٹر آپریٹرز نے 114 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔
سب سے زیادہ ہلاکتیں چتوان میں
سب سے زیادہ جانی نقصان باگمتی صوبے کے چتوان ضلع میں رپورٹ ہوا، جہاں 64 افراد ہلاک ہوئے۔
قریبی اضلاع میں ہلاکتوں کی تعداد درج ذیل ہے:
· دھادنگ: 27 ہلاکتیں
· مشرقی نوالپاراسی: 22 ہلاکتیں
نیپال پولیس نے یہ بھی بتایا کہ 28 پولیس اہلکار تاحال لاپتا ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سیلاب نے 19 پلوں اور ایک اہم شاہراہ کے تقریباً 40 کلومیٹر حصے کو تباہ کردیا۔ اس کے باعث آمدورفت کے راستے منقطع ہوگئے اور امدادی و ریسکیو کارروائیوں میں مشکلات پیدا ہوگئیں۔
نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے کہا کہ سیلاب نے کئی اضلاع میں "شدید نقصان" پہنچایا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت دستیاب معلومات صرف ابتدائی نوعیت کی ہیں۔
انہوں نے خطرے سے دوچار نواکوٹ، دھادنگ، گورکھا اور چتوان اضلاع میں بھوٹیکوشی اور تریشولی دریاؤں کے کنارے رہنے والے افراد سے محتاط رہنے کی اپیل کی۔
حکومت نے رسووا، نواکوٹ اور دھادنگ کو تین ماہ کے لیے "آفت زدہ بحرانی علاقے" قرار دے دیا ہے۔
NDRRMA نے ہیلی کاپٹر اور ڈرون آپریٹرز سے کہا ہے کہ وہ سرچ اینڈ ریسکیو کارروائیوں کو ضلعی انتظامیہ، سکیورٹی اداروں اور مقامی حکومتوں کے ساتھ مربوط کریں۔ ادارے نے پھنسے ہوئے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی موجودگی کی اطلاع دینے کے لیے آگ جلائیں اور دھواں پیدا کریں۔
نیپال کی وزارت خزانہ کے مطابق بھارت، چین اور عالمی بینک نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امداد، بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے مالی معاونت کی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔
تبت میں 3 ہلاک، 558 لاپتا
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق گیرونگ کاؤنٹی میں مٹی کے تودے گرنے کے واقعے کے بعد کم از کم 3 افراد ہلاک اور 558 لاپتا ہیں۔
بیجنگ سے کام کرنے والی خبر رساں ایجنسی شنہوا نے جمعرات کو بتایا کہ مٹی کے تودے نے جنوب مغربی چین کے شیزانگ خودمختار خطے میں واقع گیرونگ کسٹمز چوکی کو متاثر کیا۔
چینی پیپلز لبریشن آرمی کی ایک رابطہ ٹیم جمعرات کو علاقے میں بھیجی گئی، جو فوج کی مشترکہ امدادی کارروائیوں کو مربوط کرے گی۔
گیرونگ سرحدی گزرگاہ چین اور نیپال کے درمیان سیاحوں اور ٹریفک کی آمدورفت کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسٹیٹ گرڈ شیزانگ الیکٹرک کمپنی نے گیرونگ قصبے میں ہنگامی بجلی کی فراہمی کا انتظام کیا ہے۔
چین کی وزارت برائے ایمرجنسی مینجمنٹ اور نیشنل فائر اینڈ ریسکیو ایڈمنسٹریشن نے آفت زدہ علاقے میں 100 سے زائد فائر فائٹرز اور ریسکیو اہلکار بھیجے ہیں۔
پہلے خصوصی طیارے کے ذریعے پہنچنے والی امدادی ٹیم جمعرات کی صبح شیگاتسے شہر کے ایک ہوائی اڈے پر پہنچ گئی۔
لاپتہ سیاح اور غیر ملکی شہری
نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ تقریباً 300 بھارتی شہری لاپتہ ہیں اور حکومت ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سیاحتی حکام نے جمعرات کو بتایا کہ نیپال میں لاپتہ 550 سے زائد سیاحوں میں 29 ممالک کے 476 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔
چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نے بتایا کہ تبت کے گیرونگ ضلع میں 260 غیر ملکی شہری لاپتہ ہیں، تاہم ان کی قومیتوں سے متعلق معلومات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
بھارت کے وزیر خارجہ نے جمعرات کی صبح بتایا کہ نئی دہلی نے نیپال کے لیے 37.5 ٹن انسانی امداد، آفات سے نمٹنے کا سامان، ادویات اور خوراک کے پیکٹ لے جانے والا دوسرا طیارہ روانہ کیا ہے۔
آسٹریلیا کے 34 شہریوں کے لاپتا ہونے کی اطلاع ہے۔ آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا کہ حکام ان افراد کی تلاش کے لیے نیپال کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق کم از کم 63 امریکی شہری لاپتہ ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق آفت کے بعد سے 33 برطانوی شہری لاپتہ ہیں۔
کینیڈا میں نیپال کے سفارتخانے کے ایک ترجمان نے 25 کینیڈین شہریوں کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ملائیشیا کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو بتایا کہ کھٹمنڈو میں کم از کم 55 ملائیشین شہریوں سے رابطہ نہیں ہوسکا، جبکہ بنیادی ڈھانچے کو ہونے والے شدید نقصان کے باعث ان افراد سے رابطہ کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
نیوزی لینڈ کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو بتایا کہ خیال ہے کہ اس علاقے میں 5 نیوزی لینڈ کے شہری موجود تھے، تاہم ان کے موجودہ مقام کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔
جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے بدھ کی رات بتایا کہ ایک ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ میں کام کرنے والے 9 جنوبی کوریائی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 10 دیگر افراد پھنسے ہوئے ہیں۔
جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائچی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ نیپال میں جاپانی سفارتخانے کا 5 جاپانی شہریوں سے رابطہ نہیں ہوسکا اور ان کی تلاش کے لیے کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔
مختلف ممالک کے لاپتہ شہری
نیپال ٹورازم بورڈ نے ان غیر ملکی شہریوں سے متعلق معلومات جاری کی ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ علاقے میں لاپتہ ہیں:
· کینیڈا: 25 شہری لاپتہ۔
· جرمنی: کم از کم 8 شہری لاپتہ۔
· جاپان: 5 شہریوں سے رابطہ نہیں ہوسکا؛ ان کی تلاش کی درخواست کی گئی ہے۔
· ملائیشیا: کھٹمنڈو میں کم از کم 55 شہریوں سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ بورڈ نے لاپتہ ملائیشین شہریوں کی تعداد 28 بتائی تھی۔
· نیوزی لینڈ: کم از کم 5 نیوزی لینڈ کے سیاح لاپتہ۔
· روس: 5 روسی شہری لاپت۔
· سنگاپور: 6 سنگاپوری شہری لاپتہ۔
· جنوبی افریقہ: بدھ کے سیلاب کے بعد 6 جنوبی افریقی شہریوں کا سراغ نہیں مل سکا۔
· جنوبی کوریا: 9 شہری لاپتا جبکہ 10 پھنسے ہوئے ہیں۔
· یوکرین: 53 یوکرینی شہری لاپتہ۔
· امریکا: کم از کم 63 امریکی شہری لاپتہ۔
بدھ کے روز سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بیلاروس، بیلجیم، فن لینڈ، فرانس، ہنگری، آئرلینڈ، اسرائیل، قازقستان، لٹویا، لتھوانیا، نیدرلینڈز، فلپائن، پرتگال، اسپین اور سویڈن کے شہری بھی لاپتہ ہیں۔


















