امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران نے واشنگٹن کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی بار بار خلاف ورزی کی ہے اور اب وہ "اس کی قیمت ادا کر رہا ہے"۔
فلپائن میں منعقدہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم 'آسیان' کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران روبیو نے کہا: ہے کہ"یہ لوگ معاہدے کرتے ہیں، پھر تقریباً فوراً ہی انہیں توڑ دیتے ہیں یا کہتے ہیں کہ 'آئیے معاہدہ بدل دیتے ہیں۔' معاہدے اس طرح نہیں چلتے۔"
روبیو نے مزید کہا ہے کہ"جب بھی یہ لوگ کوئی معاہدہ کرتے ہیں، یا تو اسے توڑ دیتے ہیں یا دستخط کے بعد اسے تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔"
انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے "منت سماجت کر رہا ہے۔ایران پر پڑنے جنگ کا مالی بوجھ بہت زیادہ ہے لہٰذا وہ بالآخر مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور ہو جائے گا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طریقۂ کار کو "آنکھ کے بدلے آنکھ" کے انداز سے تعبیر کیا ہے۔
روبیو نے کہا ہے کہ"جب تک وہ ہوش میں نہیں آتے، ان کی ادا کی جانے والی قیمت ہر رات مزید بڑھتی جائے گی۔ ایسا لگتا ہے کہ ابھی تک انہیں سمجھ نہیں آئی۔ ایران پہلے ہی بہت بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔"
حوثیوں کو تنازعے سے دور رہنا چاہیے
روبیو نے یمن کے حوثیوں سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ علاقائی تنازعے میں مزید شامل نہ ہوں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس گروہ کو ایران کی جانب سے جنگ میں "گھسیٹا جا رہا ہے"۔
یوکرین میں جنگ
روبیو نے منیلا میں آسیان وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ امریکہ، یوکرین میں جنگ کے خاتمے میں مدد کے لیے، "تعمیری کردار" ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسے ایک بے معنی جنگ قرار دیتے ہیں اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر موقع ملا تو واشنگٹن اس تنازعے کے خاتمے میں مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔
لاوروف کے ساتھ اپنی ملاقات کے بارے میں روبیو نے کہا ہے کہ"ہماری اچھی اور کھلی گفتگو ہوئی۔"
تاہم انہوں نے ملاقات کے مندرجات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔















