صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے وینزویلا کے ساتھ ایک بڑا تیل معاہدہ کر لیا ہے۔
ٹرمپ نے جمعہ کو ٹروتھ سوشل پر اپنی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ " امریکہ نے وینزویلا کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا ہے، جو دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ ہے!''
انہوں نے کہا کہ"میری ہدایت پر، وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ، وینزویلا کی انتہائی معزز عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ قریبی تعاون میں، اور نجی کاروبار کے اشتراک کے ذریعے، وینزویلا کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر میں سے 65 ارب سے زائد بیرل پر امریکی اکثریتی کنٹرول کو یقینی بناتے ہوئے، امریکی ٹیکس دہندہ پر کوئی بوجھ ڈالے بغیر یہ معاہدہ طے پایا ہے۔"
ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاہدہ امریکی تیل کے ذخائر کو دو گنا سے بھی زیادہ کر دے گا۔
قاراقاس نے بعد ازاں اس سودے کی تصدیق کی۔
عبوری رہنما ڈیلسی روڈریگز نے سوشل میڈیا پر اس "تاریخی" معاہدے کو سراہتے ہوئے لکھا کہ اس کا ہمارے ملک کی ازسرِ نو تعمیر پر اہم اثر ہوگا اور ممکنہ سرمایہ کاری کو 100 ارب ڈالر سے زائد اور ریاست کے لیے ٹیکس کی صورت میں 209 ارب ڈالر سے زائد آمدنی قرار دیا۔
جنوری میں جب امریکہ نے سابق صدر نکولس مادورو کو برطرف اور اقتدار سے ہٹایا تو واشنگٹن امریکی ریفائنریز کے لیے وینزویلا کے خام تیل کا مستحکم بہاؤ یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ او پیک کے اس ملک کی زوال پذیر توانائی صنعت میں امریکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے، جو اس وقت یومیہ تقریباً 1.25 ملین بیرل خام تیل پیدا کرتی ہیں۔
امریکہ اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو یعنی تیل کے محفوظ ذخیرے کو دوبارہ بھرنے کے حل تلاش کر رہا ہے، جن میں امریکی پیدا کنندگان کے ساتھ خام تیل کے مبادلے کے امکانات بھی شامل ہیں۔
امریکہ اسے بڑی کامیابی قرار دیتا ہے۔
روبیو نے کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے "بڑی کامیابی" ہے اور یہ وینزویلا میں تقریباً 100 ارب ڈالر کی خطیر نجی سرمایہ کاری لائے گا۔
واشنگٹن پوسٹ نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ انتظامیہ 17 مخصوص آئل فیلڈز میں حصہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جن میں سے کئی برسوں کی بے توجہی کا شکار ہیں اور مناسب نقل وحمل کے بنیادی ڈھانچے سے محروم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قدرتی وسائل کا کنٹرول واشنگٹن کو منتقل کرنا مقامی مزاحمت کی وجہ سے وینزویلا کے آئین میں تبدیلیوں کا تقاضا کر سکتا ہے۔
واشنگٹن انتظامیہ کی جنوری کے بعد کی صورتحال میں سرمایہ کاری کی ترغیب کی کوششوں کے باوجود، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال میں وینزویلا کی تیل کی پیداوار میں صرف تقریباً 200,000 بیرل یومیہ کا اضافہ ہوا ہے۔
توقع ہے امریکی وزیرِ توانائی کرِس رائٹ اگلے ہفتے وینزویلا کا دورہ کریں گے۔
















