جنوبی کوریا کی اپیل عدالت نے بدھ کے روز ملک کے سابق انٹیلی جنس سربراہ کو 2024 میں صدر یون سوک یول کی ناکام مارشل لا ءکوشش سے متعلقہ الزامات کی وجہ سے سنائی گئی 18 ماہ کی سزائے قید کو بڑھا کر اڑھائی سال کر دیا ہے۔
یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق، سیئول ہائی کورٹ نے قومی انٹیلی جنس سروس 'NIS' کے ڈائریکٹر 'چو تائے یونگ' کو سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے جُرم میں سزا سنا دی ہے۔ عدالت کے مطابق 'چو 'نے 'یون' کی جانب سے مختصر مدت کے لیے مارشل لاء نافذ کرنے کے اعلان سے چند روز بعد یون کے دفاع میں یہ غلط بیانی کی تھی کہ یون نے سیاست دانوں کو گرفتار کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔
عدالت نے کہا ہے کہ "اگرچہ ملزم کو مارشل لاء کے اعلان کے دن گرفتاری کے حکم سے متعلق اطلاع موصول ہوئی تھی لیکن اس نے، یہ غلط بیان دے کر کہ ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا تھا، براہِ راست سیاسی بحث میں حصہ لیا ہے۔"
واضح رہے کہ ملک کے انٹیلی جنس سروس سے متعلقہ قوانین کے تحت ادارے کے اہلکاروں کا سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینامنع ہے۔
خصوصی پراسیکیوٹر نے چو کے لیے سات سال سزائے قید کا مطالبہ کیا تھا۔
اس سے قبل ایک ماتحت عدالت نے چو کو حلفیہ بیان میں جھوٹ بولنے کا مجرم قرار دیتے ہوئے 18 ماہ کی سزائے قید سنائی تھی۔
تاہم عدالت نے اِسے دیگر بیشتر الزامات سے بری کر دیا تھا۔ چو پر عائد دیگر الزامات میں یہ الزام بھی شامل تھا کہ یون کے اقدامِ مارشل لا کے تحت سیاست دانوں کو گرفتار کرنے کے منصوبے کے بارے میں علم تھا لیکن اس کے باوجود اس نے فوری طور پر قومی اسمبلی کو آگاہ نہیں کیا۔
اپیل عدالت نے ماتحت عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے چو کو فرائض میں غفلت کے الزام سے بری کر دیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ طے کرنا مشکل ہے کہ منصوبے کے بارے میں علم ہونے کے بعد چو کے لیے قومی اسمبلی کو مطلع کرنا قانونی طور پر ضروری تھا یا نہیں۔















