ترکیہ وزارتِ قومی دفاع نے کہا ہے کہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کا مقصد مشترکہ فوجی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے اور اس میں کسی بھی ملک کو مشترکہ دشمن یا حریف قرار نہیں دیا گیا۔
وزارتِ دفاع کی ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب میں پریس اور عوامی تعلقات کے مشیر، ریئر ایڈمرل ذکی آق تُرک نے کہا ہےکہ ترک مسلح افواج دوطرفہ تعاون، علاقائی اقدامات اور کثیر القومی مشنوں کے تحت مختلف خطوں میں کامیابی سے فرائض انجام دے رہی اور علاقائی و عالمی امن کے تحفظ میں قائدانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ
آق تُرک نے 7 اگست کو طے پانے والے 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہےکہ اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان موجود دوستانہ و برادرانہ تعلقات کو دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں زیادہ ادارہ جاتی اور پائیدار بنیاد فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ معاہدے کے بنیادی مقاصد میں علاقائی سلامتی اور استحکام میں کردار ادا کرنا، فوجی تعاون کو فروغ دینا اور ممکنہ بحرانوں میں مشترکہ طور پر کارروائی کرنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔
آق تُرک نے کہا ہے کہ"مذکورہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس میں کسی بھی ملک کو مشترکہ دشمن یا حریف قرار نہیں دیا گیا۔"
اعلیٰ ترین سطح پر روابط اور مرحلہ وار فوجی مشقیں
ریئر ایڈمرل آق تُرک نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان اعلیٰ ترین سطح پر باہمی روابط کو یقینی بنانے کے لیے وزرائے دفاع، وزرائے خارجہ، سربراہانِ افواج اور مسلح افواج کے کمانڈروں پر مشتمل اسٹریٹجک سیاسی اور فوجی طریقۂ کار قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ منصوبے کی رُو سے فوجی تعاون کو مرحلہ وار فروغ دیا جائے گا۔
"اس سلسلے میں ہمارا ہدف کمانڈ پوسٹ اور میدانی مشقوں سے آغاز کرنا اور بعد کے مراحل میں برّی، بحری، فضائی، فضائی دفاع اور بغیر پائلٹ نظاموں پر مشتمل مشترکہ مشقیں کروانا ہے۔"
آق تُرک نے زور دیا ہےکہ ان مشقوں کا مقصد ممکنہ بحرانوں سے قبل ضروریات اور خامیوں کی نشاندہی کرنا، حاصل شدہ تجربات کو فوجی نظریے، تربیت اور منصوبہ بندی کے عمل میں شامل کرنا اور مشترکہ کارروائی کی صلاحیت کو مسلسل بہتر بنانا ہے۔
مشترکہ ٹیکنالوجی اور پیداوار پر زور
انہوں نے کہا ہےکہ دفاعی صنعت میں تعاون معاہدے کا ایک اہم جزو ہے۔اس دائرۂ کار میں صرف مصنوعات اور نظام کی فراہمی ہی نہیں بلکہ مشترکہ ترقی اور پیداوار، ٹیکنالوجی میں تعاون اور پائیدار دیکھ بھال اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنا بھی مقصود ہے۔"
خاص طور پر بغیر پائلٹ اور خودکار نظام، الیکٹرانک جنگ اور مصنوعی ذہانت سے معاون صلاحیتوں کو ترجیحی تعاون کے شعبوں میں شامل کیا گیا ہے۔
"نیٹو کا متبادل نہیں بلکہ تکمیلی عنصر"
بین الاقوامی سلامتی کے ڈھانچے میں 'مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے' کی حیثیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے آق تُرک نے کہا ہے کہ"مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ نیٹو کا متبادل یا حریف نہیں ہے، بلکہ علاقائی سلامتی اور استحکام میں کردار کے حوالے سے اسے بین الاقوامی سلامتی کے ڈھانچے کو مکمل کرنے والے طریقۂ کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔"
آق تُرک نے کہا ہے کہ جیسے جیسے یہ نظام پختہ ہوگا اور ضروری اتفاقِ رائے حاصل ہوگا، دیگر ممالک کی شمولیت پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ حتمی مقصد ایک ایسا ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم کرنا ہے جو امن کے زمانے میں مؤثر طریقے سے کام کرے ممکنہ بحرانوں کے لیے تیار ہو اور ضرورت پڑنے پر ٹھوس فوجی مدد فراہم کر سکے۔
اپنے بیان کے اختتام میں انہوں نے کہا ہے کہ"ہمیں یقین ہے کہ یہ تعاون نہ صرف ہمارے ممالک کی سلامتی بلکہ علاقائی امن، استحکام اور قوّتِ مزاحمت میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔"



















