ترکیہ نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو جائز قرار دینے سے متعلق کولومبیا کے بیان کی "شدید" مذمت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ علاقہ شام کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔
ترک وزارتِ خارجہ نے منگل کے روز اپنی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ "اس نوعیت کی انفرادی کوششیں، جو خاص طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 497 سمیت بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہیں، کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتیں۔"
وزارتِ خارجہ کے بیان میں بین الاقوامی برادری سے ایک بار پھر اپیل کی گئی کہ وہ گولان کی پہاڑیوں سمیت شام کے جنوب میں اسرائیل کے قبضے اور ملک کی خودمختاری و استحکام کو نشانہ بنانے والے حملوں کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ترکیہ، شام کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ملک میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔"
پیر کے روز کولومبیا نے شام کی گولان کی پہاڑیوں پر، جو 1967 سے اسرائیلی فوجی قبضے میں ہیں، اسرائیل کی خودمختاری کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا۔
شام کے علاوہ سعودی عرب، مصر اور قطر سمیت کئی علاقائی ممالک نے اس فیصلے کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔
گولان کی پہاڑیاں، جنہیں اسرائیل نے 1981 میں یکطرفہ طور پر اپنے ملک میں شامل (الحاق) کر لیا تھا، بین الاقوامی تنازعات کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
کولومبیا کے نئے اسرائیل نواز صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا نے حال ہی میں فلسطین میں کھولے جانے والے سفارت خانے کے منصوبے کو بھی معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔














