ٹرمپ انتظامیہ نے اس بات پر غور کیا ہے کہ اگر نازک جنگ بندی ختم ہوتی ہے تو ایران کے خلاف ایک نئی فوجی مہم مختلف آپریشنل نام کے تحت شروع کی جائے، جس میں "Operation Sledgehammer" بھی شامل ہے۔
NBC نیوز نے رپورٹ کیا کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کریں تو امریکی حکام نے سابقہ مہم "Operation Epic Fury" کے نام کو تبدیل کرنے پر بات چیت کی ہے۔
یہ مذاکرات انتظامیہ کے اندر بڑھتی ہوئی توقعات کی عکاسی کرتے ہیں کہ رکے ہوئے سفارتی اقدامات اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض حکام کا ماننا ہے کہ ایک نیا آپریشنل نام یہ مؤقف مضبوط کر سکتا ہے کہ نئی مہم 1973 کے "War Powers Resolution" کے تحت ایک الگ فوجی کارروائی ہے، جو اس بات کی حد مقرر کرتا ہے کہ صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر کتنی دیر تک آپریشنز جاری رکھ سکتے ہیں۔
سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو نے حال ہی میں صحافیوں سے کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان گزشتہ ماہ جنگ کو روک دینے پر اتفاق کے بعد "Operation Epic Fury" ختم ہو گیا تھا۔
تاہم، تنازعہ کے فروری میں شروع ہونے کے بعد سے خطے میں امریکی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
پنٹاگون نے فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا
ایرانی شرائط
امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی بندش جاری ہے کیونکہ تہران مزید مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کر رہا ہے جب تک کہ پانچ مخصوص اعتماد سازی کی شرائط پوری نہ ہوں۔
ان شرائط میں ہر محاذ پر لبنان سمیت جنگ کا خاتمہ، پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی رہائی، جنگ کے نقصان کا معاوضہ فراہم کرنا، اور آبنائے ہرمز پر ایرانی حاکمیت کو تسلیم کرنا شامل ہیں۔
یہ موقف اسلام آباد میں مذاکرات کے ناکام ہونے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا، جنہوں نے ایران کے تازہ جواب کو "بالکل ناقابل قبول" قرار دیا۔
تہران کا موقف ہے کہ امریکی 14 نکاتی تجویز "مکمل طور پر یکطرفہ" تھی، جبکہ جاری امریکی بحری محاصرے نے دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیا ہے۔














