برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو اپنی ہی لیبر پارٹی کے اندر سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ تقریباً 70 سے 80 اراکینِ پارلیمان نے یا تو ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے یا ان سے عہدہ چھوڑنے کے لیے ٹائم ٹیبل ترتیب دینے پر زور دیا ہے۔
یہ بڑھتی ہوئی بے چینی لیبر پارٹی کے لیے ہونے والے حالیہ مقامی انتخابات کے مشکل نتائج کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں پارٹی کو برطانیہ بھر میں بڑے دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسٹارمر نے اعتراف کیا ہے کہ ان کی حکومت سے غلطیاں ہوئیں، لیکن انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ حکومت نے "بڑے سیاسی فیصلے درست کیے ہیں۔" انہوں نے اپنے مستقبل کے بارے میں بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے درمیان "شک کرنے والوں" کو غلط ثابت کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔
دی ٹائمز (The Times) کے مطابق، وزیرِ داخلہ شبانہ محمود ان کم از کم چار وزراء میں شامل ہیں جنہوں نے نجی طور پر وزیراعظم پر زور دیا ہے کہ وہ ڈاؤننگ اسٹریٹ سے سبکدوش ہونے کے لیے ایک ٹائم لائن دینے پر غور کریں۔
دباؤ کا یہ سلسلہ لیبر پارٹی کو انتخابات میں ملنے والی مسلسل ناکامیوں کے بعد شروع ہوا ہے:
لیبر پارٹی کو ویلز کی سینیڈ (Senedd) کے انتخابات میں تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اسکاٹ لینڈ میں اسکاٹش نیشنل پارٹی (SNP) پانچویں مرتبہ اقتدار برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔
اسکاٹ لینڈ، ویلز اور انگلستان کی 136 مقامی اتھارٹیز میں ہونے والے انتخابات، 2024 کے عام انتخابات میں لیبر کی بھاری اکثریت سے جیت کے بعد پہلا بڑا انتخابی امتحان تھے۔
نائجل فاریج کی قیادت میں ریفارم یو کے نے اپنی حالیہ ترقی جاری رکھتے ہوئے 1,450 سے زائد کونسل نشستیں جیت لیں
کیئر اسٹارمر جولائی 2024 میں قدامت پسند پارٹی کے 14 سالہ دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد برسرِ اقتدار آئے تھے۔ لیکن ان کا دورِ حکومت ایک کے بعد ایک پالیسی کی غلطیوں اور واشنگٹن میں برطانیہ کے سفیر کے طور پر پیٹر مینڈیلسن کی تقرری اور پھر جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کے انکشاف کے بعد ان کی برطرفی کے اسکینڈل کی لپیٹ میں رہا ہے۔










