جاپان کی وزیرِ اعظم سانائے تاکائیچی نےجاپان کے تین غیر جوہری اصولوں کی واضح طور پر دوبارہ توثیق کرنے سے گریز کیا۔
جمعرات کو ، ہیروشیما پر امریکی ایٹم بم حملے کی 81ویں برسی کی، سالانہ یادگاری تقریب میں شرکت کے بعد جاری کردہ بیان میں تاکائیچی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت جاپان کی طویل عرصے سے جاری غیر جوہری پالیسی کی پابند ہے اور جوہری ہتھیاروں سے پاک دنیا کے قیام کے لیے "حقیقت پسندانہ اور عملی" کوششیں جاری رکھے گی۔
تاہم، خطے میں سلامتی کی بدلتی ہوئی صورتحال کے باعث اس پالیسی پر بحث میں شدت آنے کے باوجود، انہوں نے اس بات کا واضح عہد نہیں کیا کہ وہ جاپان کے تین غیر جوہری اصولوں، یعنی جوہری ہتھیار نہ بنانے، نہ اپنے پاس رکھنے اور نہ ہی انہیں جاپانی سرزمین میں داخلے کی اجازت دینے پر، بدستور قائم رہیں گی۔
ہیروشیما کی یاد میں تقریب
تقریب کے دوران ہیروشیما کے میئر کازومی ماتسوئی نے عالمی رہنماؤں سے جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا ہے کہ یہ ہتھیار آج بھی بین الاقوامی تنازعات میں "دھمکی اور خوف پیدا کرنے کے آلے" کے طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے جوہری تخفیفِ اسلحہ کے لیے کثیرالجہتی کوششوں کو ازسرِنو فعال کرنے پر زور دیا اور خبردار کیا ہےکہ طاقت کے استعمال کو قبول کرنا ہیروشیما یا ناگاساکی جیسے ایک اور سانحے کے خطرے کو بڑھا رہا ہے ۔
تقریب میں مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 15 منٹ پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ یہ وہی لمحہ تھا جب 6 اگست 1945 کو امریکہ نے ہیروشیما پر ایٹم بم گرایا تھا اور جس کے نتیجے میں اسی سال کے اختتام تک اندازاً ایک لاکھ چالیس ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
















