مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
"عالمی ریڈ کراس کا تعاون " غزہ میں تباہ حال عمارتوں سے لاشیں نکالنے کا آغاز
غزہ میں سول ڈیفنس کی ٹیموں نے منگل کے روز، جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسرائیلی حملے سے تباہ ہونے والے ایک کثیر المنزلہ مکان کے ملبے تلے سے 13 فلسطینیوں کی لاشیں نکالنے کا کام شروع کر دیا ہے
"عالمی ریڈ کراس کا تعاون " غزہ میں تباہ حال عمارتوں سے لاشیں نکالنے کا آغاز
غزہ-فلسطین

غزہ میں سول ڈیفنس کی ٹیموں نے منگل کے روز، جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسرائیلی حملے سے تباہ ہونے والے ایک کثیر المنزلہ مکان کے ملبے تلے سے 13 فلسطینیوں کی لاشیں نکالنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

یہ آپریشن غزہ شہر کے مغرب میں واقع الکتیبہ  علاقے میں عالمی کمیٹی برائے صلیب احمر کے ساتھ تعاون کے ذریعے غربیہ  خاندان کے گھر میں چلایا جا رہا ہے۔

سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے اناطولو یہ ایجنسی کو بتایا کہ اس حملے میں بڑی تعداد میں فلسطینی ہلاک ہوئے تھے کچھ لاشیں اسی وقت نکال لی گئی تھیں، جبکہ 13 لاشیں ملبے تلے دبی رہ گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ متاثرین میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔

بصل نے اس بات پر زور دیا کہ بھاری مشینری، آلات، ایندھن اور حفاظتی سامان کی شدید کمی کے باعث غزہ بھر میں تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے دبے ہوئے ہزاروں فلسطینیوں کو نکالنے کی کوششوں میں مسلسل رکاوٹیں آ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم اسی حالت میں رہے تو امدادی کاموں کو مکمل کرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔

بصل نے بتایا کہ سول ڈیفنس کی ٹیمیں انتہائی محدود وسائل  کے ساتھ  کام کر رہی ہیں کیونکہ  لاشوں، انسانی باقیات اور ملبے کو ہٹاتے وقت ان کے پاس مناسب حفاظتی سامان بھی موجود نہیں ہوتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ ٹیمیں بغیر کسی تنخواہ، بونس یا معاوضے کے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، اور انہوں نے بین الاقوامی برادری، عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ امدادی کاموں کو جاری رکھنے کے لیے ضروری بھاری مشینری اور لاجسٹک مدد فراہم کریں۔

منگل کا یہ آپریشن، اسرائیلی جنگ میں تباہ ہونے والی عمارتوں کے نیچے دبے فلسطینیوں کو نکالنے کے لیے 19 جولائی کو شروع کیے گئے سول ڈیفنس پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے۔

بصل کے مطابق، 800 گھنٹے پر محیط اس مرحلے میں غزہ شہر، شمالی اور وسطی غزہ کے 147 تباہ شدہ مکانات شامل ہیں، جہاں ملبے تلے 1,072 لاشیں موجود ہونے کا خدشہ ہے۔

نومبر 2025 میں شروع کیے گئے پہلے مرحلے میں، ٹیموں نے 54 تباہ شدہ گھروں اور عمارتوں سے 333 لاشیں اور انسانی باقیات نکالیں۔ محدود وسائل کی وجہ سے وہ دیگر تقریباً 226 لاشوں تک نہیں پہنچ سکے۔

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے اکتوبر 2025 میں رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیلی جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک تقریباً 9,500 فلسطینی لاپتہ ہیں، جن کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، اور ان میں سے کچھ کا انجام تاحال نامعلوم ہے۔

اسرائیلی فوج، 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہونے والی اسرائیل-حماس جنگ بندی کے باوجود، غزہ کے کئی علاقوں میں فلسطینیوں کو نشانہ بنانا جاری رکھے ہوئے ہے۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 1,258 فلسطینی ہلاک اور 4,139 زخمی ہو چکے ہیں۔

اکتوبر 2023 میں غزہ کے خلاف شروع کی گئی اس نسل کشی کی جنگ میں، اسرائیل 73,000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور 174,000 سے زائد کو زخمی کر چکا ہے۔ اس جنگ نے خطے کے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے 90 فیصد حصے کو متاثر کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔