چین اور اسپین نے عالمی نظام کو "منتشر ہوتا نظام" قرار دیا اور صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم پیدرو سانچیز کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات میں اِس رُو بہ زوال عالمی نظام کے مقابل باہمی تعلقات کو گہرا کرنے اور عالمی امن و ترقی کے تحفظ کا عہد کیا ہے۔
ہسپانوی وزیر اعظم سانچیز کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب کئی مغربی حکومتیں اپنے اہم اتحادی ملک 'امریکہ' کی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی بے چینی اور بیجنگ کے ساتھ جاری سیکورٹی و تجارتی کشیدگی کے دوران باہمی تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
منگل کے روز جاری کردہ بیان میں شی جن پنگ نے کہا ہے کہ "موجودہ دنیا میں افراتفری کا راج ہے اور بین الاقوامی نظم و ضبط تباہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں باہمی تعلقات کو گہرا کرنا چین اور اسپین دونوں کے مفاد میں ہے"۔
شی نے قانون کی بالادستی کے دفاع، حقیقی کثیر الجہتی کے مشترکہ تحفظ اور عالمی امن و ترقی کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط تر رابطوں اور اعتماد پر بھی زور دیا ہے۔
"بین الاقوامی قانون کی پامالی"
سانچیز نے امن و خوشحالی کے فروغ کے لیے قریبی تعلقات استوار کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی قانون کو بارہا نظر انداز کئے جانے کی طرف اشارہ کیا اور کہا ہے کہ "آج چین اور یورپی یونین کے درمیان پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط تعلق قائم کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔"
اس سال چین کا دورہ کرنے والے برطانیہ، کینیڈا، فن لینڈ اور آئرلینڈ کے رہنماؤں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سانچیز نے دنیا کی دوسری بڑی معیشت ' چین' پر زور دیا ہےکہ وہ عالمی معاملات میں زیادہ فعال کردار ادا کرے۔
پیر کے روز اپنے ایک بیان میں سانچیز نے موسمیاتی بحران سے لے کر سیکورٹی، دفاع اور عدم مساوات کے خلاف جنگ جیسے وسیع مسائل پر بات کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہےکہ ایسے وقت میں جب امریکہ کئی محاذوں سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر رہا ہے، یورپ کو اپنی کوششیں دوگنی کر دینی چاہئیں۔
تزویراتی شراکت داری اور تجارتی توازن
اسپین، ٹرمپ کی طرح چین کو اقتصادی اور جیو پولیٹیکل حریف تصور کرنے کے برعکس تجارت کی توسیع اور تزویراتی اتحادی کے طور پر دیکھنے والے بڑے ترین یورپی حامیوں میں سے ایک رہا ہے۔
اس سے قبل، سانچیز نے اپنے تین روزہ دورہ بیجنگ کے آغاز پر چین کے یورپی یونین کے ساتھ تجارتی عدم توازن کو "ناقابل برداشت" قرار دیا تھا۔ یہ سانچیز کا گزشتہ چار سالوں میں چین کا چوتھا دورہ ہے۔



