جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر "گہری تشویش" کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے عملی "جزوی الحاق" کو روکا جانا چاہیے۔
حکومتی ترجمان اسٹیفن کورنیلیس نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "چانسلر فریڈرک میرز نے آج نیتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فونک ملاقات کی ہے۔ گفتگو کے دوران چانسلر نے فلسطینی علاقوں میں ہونے والی پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہاہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں کوئی عملی جزوی الحاق نہیں ہونا چاہیے۔"
چانسلر نے لبنانی حکومت کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات شروع کرنے کے لئے نیتن یاہو کی حوصلہ افزائی کی اور جنوبی لبنان میں لڑائی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان واڈیفول نے بھی میرز کے بیانات کی حمایت کی اور اپنے لبنانی ہم منصب یوسف راگی کے ساتھ ٹیلی فونک ملاقات کی ہے۔ مذاکرات میں واڈیفول نے کہا ہے کہ "اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست مذاکرات ایک ایسے مستقبل کی طرف پہلا اہم قدم ہو سکتے ہیں جہاں اسرائیل کے تحفظ سے متعلقہ مفادات اور لبنان کی علاقائی سالمیت و خودمختاری دونوں کا احترام کیا جائے۔"
مذاکرات کی اپیل
واڈیفول نے مزید کہا ہے کہ "اسرائیل پر حزب اللہ کے حملے بند ہونے چاہئیں۔ ہم لبنان کی اپنی پوری سرزمین پر طاقت کے استعمال کی اجارہ داری اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ ساتھ ہی، اسرائیلی فوج کو شہری آبادی اور شہری انفراسٹرکچر کا تحفظ کرنا چاہیے۔"
28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ۔اسرائیل اور ایران جنگ سے کچھ ہی عرصہ بعد اسرائیل نے لبنان پر حملوں کا آغازکر دیا تھا۔ ان حملوں کے نتیجے میں لبنان میں اب تک 2,000 سے زائد افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔
گزشتہ ہفتے پاکستان کی جانب سے ایران جنگ میں جنگ بندی کے لیے ثالثی کے بعد، لبنان اور اسرائیل نے بھی بات چیت پر اتفاق کیا ہے اور پہلا اجلاس منگل کے روز واشنگٹن میں ہونا طے پایا ہے۔



