ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
مسئلہ قبرص پر یورپی یونین مخلص نہیں ہے:شمالی ترک قبرص
یورپی کمیشن نے ترک قبرصیوں کی تنہائی کے خاتمے، ”پل بنانے“ اور ”مکالمے کو بڑھانے“ کی ماضی کی کوششوں کا حوالہ دیا جسے شمالی قبرص نے محض پیش رفت کا ایک ”غلط تاثر“ پیدا کرنے کی کوشش قرار دے کر مسترد کر دیا ہے
مسئلہ قبرص پر یورپی یونین مخلص نہیں ہے:شمالی ترک قبرص
شمالی قبرصی ترک جمہوریہ

شمالی قبرصی  ترک جمہوریہ نے یورپی یونین پر کڑی تنقید کی ہے۔

 یورپی کمیشن نے ترک قبرصیوں کی تنہائی کے خاتمے، ”پل بنانے“ اور ”مکالمے کو بڑھانے“ کی ماضی کی کوششوں کا حوالہ دیا جسے شمالی قبرص نے محض پیش رفت کا ایک ”غلط تاثر“ پیدا کرنے کی کوشش قرار دے کر مسترد کر دیا ہے ۔

شمالی قبرص کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ کمیشن کے خط میں دیے گئے یہ حوالے جزیرے کے اصل حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔

 انہوں نے یورپی یونین پر مسئلہ قبرص کے حوالے سے ایک ”جانبدارانہ اور غیر مخلصانہ“ موقف برقرار رکھنے کا الزام لگایا۔

وزارت نے کہا کہ ترک قبرصیوں کو برسوں سے بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر انسانی تنہائی اور پابندیوں کے سائے میں رہنے پر مجبور کیا گیا ہے، تعلیم، کھیل، ثقافت اور معاشی زندگی جیسے مختلف شعبوں میں عائد یہ پابندیاں ترک قبرصیوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں یورپی یونین پر جزیرے پر ناجائز جمودکو برقرار رکھنے اور یونانی قبرصی فریق کے ویٹو کے آگے گھٹنے ٹیکنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔

بیان کے مطابق، یہ ایک واضح حقیقت یہ ہے کہ یورپی یونین اور بین الاقوامی برادری کی آنکھوں کے سامنے اب بھی شمالی قبرص کے عوام کو غیر انسانی تنہائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شمالی قبرص کے بیان میں یورپی کمیشن کی جانب سے 2004 کے یورپی کونسل کے فیصلوں کے حوالوں کو، جن کا مقصد ترک قبرصیوں کی تنہائی کو ختم کرنا تھا، اور ”پل بنانے“ اور ”مکالمے کو فروغ دینے“ کے دعووں کو ”غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش سے بڑھ کر کچھ نہیں“ قرار دیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ  ”یورپی یونین نے ترک قبرصی عوام پر عائد ناجائز پابندیوں اور یونانی قبرصی فریق کی طرف سے کھڑی کی گئی غیر انسانی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اور نہ ہی کوئی مخلصانہ انداز، سیاسی عزم یا وژن دکھایا ہے۔

یورپی یونین، جو یونانی قبرصی قیادت کی حمایت کرتی ہےجو ہمارے نوجوانوں اور کھلاڑیوں کو دنیا کے ساتھ تعلقات قائم کرنے سے بھی روکتی ہے،جزیرے پر موجودہ جمود کی سب سے بڑی محافظ ہے“۔

وزارت نے واضح کیا کہ وہ یورپی یونین اور یورپی کمیشن کے نائب صدر اور قبرص کے لیے یورپی یونین کے خصوصی نمائندے رافیل فیٹو  کو سنجیدگی سے نہیں لے سکتے، جو ترک قبرصی عوام کی مرضی، خودمختارانہ برابری اور مساوی بین الاقوامی حیثیت کو نظر انداز کرتے ہیں اور جانبدارانہ رپورٹوں، خطوط اور بیانات کے ذریعے جزیرے کے حقائق کو مسخ کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ترک قبرصی عوام اور شمالی قبرص  جمہوریہ ترکیہ کی بھرپور حمایت کے ساتھ اپنے ریاستی ڈھانچے کے تحت اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، اور تمام تر پابندیوں اور رکاوٹوں کی کوششوں کے باوجود خودمختارانہ برابری کی بنیاد پر اپنے حقوق کے دفاع کے لیے پرعزم رہیں گے۔

شمالی قبرص اس مہم جوئی، تاخیری حربوں اور جزیرے پر موجود ناانصافی کو چھپانے والے طریقوں کو قبول نہیں کرے گا۔ بین الاقوامی برادری کو ایک بنیادی سچائی سمجھنی ہوگی: جب تک ترک قبرصی عوام پر عائد ان فرسودہ پابندیوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، اور ہماری خودمختارانہ برابری اور مساوی بین الاقوامی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک یورپی یونین کے 'خیر سگالی' کے اعلانات کی ہماری نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔

یہ جزیرہ دہائیوں سے یونانی قبرصیوں اور ترک قبرصیوں کے درمیان تنازع کا شکار ہے۔

 

 

دریافت کیجیے
اسرائیل: انتخابی کمیٹی نے نیتن یاہو کو جرمانہ کر دیا
صدر ایردوان، برسوں سے غزہ کی سب سے بلند آواز رہے ہیں
مصر: صدر سیسی جنوبی کوریا پہنچ گئے
"ایک  سنہرے دور کا اختتام" میسی نے فٹ بال کو خیر باد کہہ دیا
پاکستان:طویل الفاصلہ فتح-4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
ماسکو یوکرین پر  بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے: زیلینسکی
بھارت: پولیس نے راہول گاندھی کو گرفتار کر لیا۔
حوثیوں کا دعوی: سعودی ہوائی اڈوں اور فوجی بیسوں پر ڈرون اور میزائل حملے کئے گئے ہیں۔
صدر رجب طیب اردوان کا استنبول کے 103 ویں یوم ِنجات پر خصوصی پیغام
امریکہ: نضال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی
اسرائیل نے فوج کو غزہ پر حملوں کے لئے تیاری کا حکم دے دیا
امریکی وزیر خارجہ اچانک آئس لینڈ پہنچ گئے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"