بدھ کو تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اطلاعات کے مطابق امریکہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرے کو طوالت دے گا، جس سے مشرق وسطیٰ کے اس اہم پیداوار ی خطے سے سپلائی میں رکاوٹیں طویل ہو سکتی ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے اطلاع دیہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کو ایران کے محاصرہ کی مدت کو بڑھانے کی تیاری کرنے کی ہدایت کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ ایرانی معیشت اور تیل کی برآمدات پر مزید دباو ڈالنے کے لیے اس کے بندرگاہوں سے آمد و رفت روکنے کی پالیسی پر عمل کریں گے۔
ہیتونگ فیوچرز کے تجزیہ کار یانگ آن نے کہا، 'حالیہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ آبناء کے محاصرے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اگر ٹرمپ محاصرے کو طول دینے پر تُلے ہوئے ہیں تو سپلائی میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوں گی اور تیل کی قیمتیں مزید اوپر جائیں گی۔'
اگرچہ ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ میں جنگ بندی کا نفاذ ہے، مگر تنازعہ تعطل کا شکار ہے جب کہ فریقین لڑائی کو رسمی طور پر ختم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ایران نے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت بند کر دی ہے، جو عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد سپلائی کا راستہ ہے، اور امریکہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔
امریکہ، ایران کے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کے خاتمے کے لیے دباو بڑھا ہے ، جبکہ ایران ت اس جنگ کے ہرجانے کے طور پر معاوضے، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اورآبنائے ہرمز کو اپنے زیر کنٹرول رکھنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ہرمز کی بندش عالمی ذخائر کی ترسیل میں بڑی رکاوٹ ہے ، اور مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی خام تیل کے ذخائر میں گراوٹ آرہی ہے۔
ذرائع کے مطابق 24 اپریل تک خام تیل کے ذخائر 1.79 ملین بیرل گھٹ گئے۔ پٹرول کے ذخائر 8.47 ملین بیرل کم ہوئے۔











