امریکہ وزارتِ دفاع 'پینٹاگون' کے سربراہ پیٹ ہیگستھ آج بروز بدھ ایران جنگ کے حوالے سے پہلی بار کانگریس میں وضاحت دے رہے ہیں۔
ہیگستھ، جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے جمود کا شکار ہونے اور امریکہ کے تہران کی پیش کردہ اور آبنائے ہُرمزکو دوبارہ کھولنے سے متعلقہ تجویز کو مشتبہ نظروں سے دیکھنے کے بارے میں بیان جاری کرنے کے بعد، پہلی دفعہ اراکینِ کانگریس کے سوالات کے جواب دیں گے۔
ڈیموکریٹوں کا مؤقف ہے کہ یہ جنگ کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کی گئی ، جنگ کی مالیت بہت زیادہ ہے اور یہ ایک اختیاری تنازعہ ہے۔
کانگریس کے ڈیموکریٹ ممبران نے اس ماہ کے اوائل میں ہیگستھ پر "سنگین جرائم اور بدعنوانیوں" کے الزامات عائد کئے اور ان کے مواخذے کے لئے چھ نکاتی قرارداد پیش کی تھی۔
اجلاس کانگریس کی مسلح افواج کمیٹی میں ہوگااور 2027 کے عسکری بجٹ کی تجویز پر غور کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ بجٹ میں دفاعی اخراجات کو تاریخی سطح یعنی 1.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ شامل ہے۔
توقع ہے کہ ہیگستھ اور مسلح افواج کے سربراہ ڈین کین مزید ڈرونوں، میزائل دفاعی نظاموں اور جنگی جہازوں کی ضرورت پر زور دیں گے۔
امکان ہے کہ ڈیموکریٹ، ایران جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات، اہم امریکی اسلحے کے بڑے پیمانے پر استعمال اور ایران میں اسکول کے بچوں کی ہلاکت کا سبب بننے والی بمباری جیسے واقعات پر توجہ مرکوز کریں گے ۔
کچھ ارکان یہ سوال بھی اٹھا سکتے ہیں کہ امریکی فوج، امریکی دفاع کو عبور کر کے امریکی فوجیوں کو ہلاک یا زخمی کرنے والے ایرانی ڈرونوں کے مقابل کتنی تیار حالت میں ہے۔
اگرچہ اس وقت جنگ بندی نافذ ہے لیکن امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو کانگریسی نگرانی کے بغیر جنگ شروع کی تھی۔ ڈیموکریٹ، سینٹ اور ایوانِ نمائندگان میں، ایسی قراردادیں منظور کروانے میں ناکام رہے تھے جو صدر کو کانگریس کی طرف سے منظوری تک جنگ روکنے کا پابند کر سکتیں۔
ریپبلکنوں کا کہنا ہے کہ وہ، ایران کے جوہری پروگرام، مذاکرات کی ممکنہ بحالی اور پسپائی کے خطرات کے پیش نظر ، فی الحال صدر ٹرمپ کی جنگی قیادت پر اعتماد کریں گے۔
تاہم ریپبلکن بھی اس تنازعے کے خاتمے کے بے صبری سے منتظر ہیں۔ بعض ارکان، جنگ کے طول پکڑنے کی صورت میں ممکنہ رائے شماری کے صدر کے لیے ایک اہم امتحان بن سکنےکے پہلو پر بھی بغور نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔
ہیگستھ نے جنگ کے حوالے سے عوامی سطح پر ارکان کے سوالات سے گریز کیا ہے تاہم وہ اور کین دونوں ٹیلی وژن پر پینٹاگون کی بریفنگ دیتے رہے ہیں۔
منگل کے روز وائٹ ہاوس میں ایک سرکاری عشائیے کے دوران ٹرمپ نے سوئم اور دیگر مہمانوں کو بتایا کہ ایران "فوجی طور پر شکست کھا چکا ہے۔چارلس میرے مؤقف کو مجھ سے زیادہ مثبت نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم اپنے حریف کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے۔"
تاہم ایران مسّلح افواج کے ایک ترجمان نے منگل کو سرکاری ٹی وی پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہم نہیں سمجھتے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے"۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تہران کو "امریکہ پر اعتماد نہیں ہے"۔













