ایرانی رہبر اعلی کے ایک سینئر عسکری مشیر نے کہا کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرہ "ناکام" ہوگا، اور خبردار کیا کہ اگر یہ جاری رہا تو تہران تصادم کا انتخاب کر سکتا ہے۔
آج صبح سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے بیانات میں محسن رضائی نے کہا کہ ایران کے پاس اس محاصرے کو عبور کرنے کے متعدد طریقے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ اسے نافذ کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر محاصرہ جاری رہا تو ایران اسے توڑنے کے لیے تصادم پر مجبور ہو سکتا ہے۔
رضائی نے ممکنہ منظرناموں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اگر دوبارہ جنگ ہوئی تو اس کا محور زیادہ تر جنوبی ساحلی علاقے ہوں گے جو اصفہان کی طرف پھیل سکتے ہیں، جبکہ ملک کے مغرب میں بھی کچھ کارروائیاں متوقع ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے تنازعے میں تہران میں بمباری بھی شامل ہو سکتی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر مشترکہ حملہ شروع کیا تھا، جس کے جواب میں تہران نے اسرائیل اور خطے کے دیگر اُن ممالک پر حملے کیے جہاں امریکی اثاثے موجود ہیں۔
اس امریکی-اسرائیلی بمباری میں 3,300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد واشنگٹن اور تہران نے پاکستان کی ثالثی میں 8 اپریل کو دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا۔
دراصل جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے والی تھی مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 اپریل کو پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فوجی سربراہ عاصم منیر کی درخواست پر اسے غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا تھا۔










