15 جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کی کوشش کو دس سال گزر چکے ہیں۔ فتح اللہ دہشت گرد تنظیم (FETO) نے ریاست کے دیگر اہم اداروں کی طرح دفاعی صنعت میں بھی مختلف طریقوں سے اثر و رسوخ جمانے اور ترکیہ کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔
تنظیم نے دفاعی صنعت کو کن طریقوں سے نقصان پہنچانے یا سبوتاژ کرنے کی کوشش کی؟ اس نے اہم منصوبوں اور اداروں کو کس طرح متاثر کیا؟ اور ان اقدامات کے ترکیہ کی دفاعی صلاحیت پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟
FETO کو ریاستی اداروں سے نکالے جانے کے بعد ترک دفاعی صنعت نے نمایاں رفتار حاصل کی۔ مقامی اور قومی منصوبوں کے ذریعے آنے والی تبدیلی اور اس کے قومی سلامتی پالیسیوں پر مثبت اثرات بھی اس گفتگو کا حصہ ہیں۔
اس سلسلے کی اس قسط میں ہم خاص طور پر گزشتہ دس برسوں کے دوران ترک دفاعی صنعت کی غیر معمولی پیش رفت پر بات کریں گے۔
ہمارے مہمان ہیں دفاعی صنعت کی پالیسیوں کے ماہر' آردا میولود اوغلو'۔














