چین نے منگل کو امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بیرونی خلاء میں اپنی فوجی سرگرمیوں کو وسعت دینا بند کرے، اس کے بعد جب واشنگٹن نے پہلی بار اعلانیہ طور پر تسلیم کیا کہ اس نے زمین کے مدار میں عملی ہتھیار نصب کیے ہیں۔
وزارت خارجہ کے ترجمان Guo Jiakun نے بیجنگ میں صحافیوں سے کہا، 'چین طویل عرصے سے بیرونی خلاء کے پر امن استعمال اور خلائی سلامتی کے تحفظ کا پابند رہا ہے۔ ہم بیرونی خلاء میں کسی بھی اسلحہ کی دوڑ یا اسے ہتھیار بنانے یا جنگی علاقے میں تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتے ہیں۔'
گو و نے کہا کہ 'ہم امریکہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ بیرونی خلاء میں فوجی تیاریوں کو توسیع دینا بند کرے اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے عالمی تزویراتی استحکام کو برقرار رکھے۔'
یہ بیان اس وقت آیا جب امریکی فضائیہ کے سیکرٹری ٹروئے مینک نے پیر کو کہا کہ اسپیس فورس کے پاس مدار میں عملی ہتھیار موجود ہیں جو دشمنوں کے خطرات کا جواب دے سکتے ہیں۔
Meink نے ایئر، اسپیس اینڈ سائبر کانفرنس میں کہا، 'ہم مسلسل یہ یقینی بناتے رہتے ہیں کہ ہم بدلتے ہوئے خطرات سے کہیں بھی نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔'
انہوں نے مزید کہا، 'اسی لیے اسپیس فورس اب مدار میں ایسے خلائی کنٹرول ہتھیار رکھتی ہے جو مشترکہ افواج کو دشمنانہ کارروائیوں سے دفاع فراہم کرنے کے قابل ہیں۔'
Meink، جن کے زیرِ انتظام امریکی فضائیہ اور اسپیس فورس دونوں آتی ہیں، نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ یہ ہتھیار کب عملی ہوئے، ان کی صلاحیتیں کیا ہیں یا آیا وہ حرکیاتی امپیکٹرز، ہدایت شدہ توانائی، الیکٹرانک جنگ یا سائبر صلاحیتوں پر مبنی ہیں۔
بعد ازاں انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ یہ علانیہ اعتراف سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا اور اس اصطلاحات کا انتخاب عسکری بازداشت کو مضبوط کرنے کے لیے 'بہت سوچ سمجھ کر' کیا گیا تھا۔
Meink نے کہا، 'ہم جو کر رہے ہیں اس کی تفصیلات پر بات کرنا حقیقت میں اس بازداشت کے لیے فائدہ مند نہیں ہوگا۔'
'ہم اس بات کی تفصیلات نہیں بتانے جا رہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں، چاہے ہم نے ٹیسٹ کیا ہے یا نہیں، یا کچھ اور۔ میں بس یہی کہوں گا کہ خلائی ماحول فوجی اور اقتصادی سلامتی کے لیے اہم ہے، اور ہمیں یقینی بنانا ہوگا کہ امریکہ وہاں آزادانہ طور پر کام کر سکے۔'
انہوں نے مزید کہا، 'یہ انتہائی اہم ہے کہ ہم اپنی بالادستی برقرار رکھیں، نہ صرف ہوا میں بلکہ خلاء میں بھی۔' 'اسی لیے ہمیں ایسے اقدامات کرنا پڑے ہیں تاکہ جب ہمیں خطرہ لاحق ہو تو ہم اس کا مقابلہ کر سکیں۔'
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ، چین اور روس کے درمیان خلاء میں فوجی مسابقت تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور یہ تینوں ممالک مخالف خلائی صلاحیتیوں کو فروغ دے چکے ہیں۔
1967 کے بیرونی خلاء کے معاہدے میں جوہری ہتھیار اور دیگر تباہ کن ہتھیاروں کو مدار میں نصب کرنے کی ممانعت ہے، مگر اس میں خلاء میں روایتی ہتھیاروں پر واضح طور پر پابندی عائد نہیں کی گئی ۔
سیکورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مدار میں ہتھیاروں کے تعینات ہونے کی اعلانیہ تصدیق حریف طاقتوں کو اپنی صلاحیتوں کے پھیلاؤ کی ترغیب دے سکتی ہے، جس سے ایک ایسے میدان میں اسلحہ کی دوڑ تیز ہو سکتی ہے جو مواصلات، نیویگیشن، اطلاعات جمع کرنے اور فوجی کارروائیوں کے لیے بڑھتی ہوئی اہمیت رکھتا ہے۔





















