ترکیہ نے سعودی عرب پر ڈرون حملوں کی سخت مذّمت کی ہے۔
ترکیہ وزارت نے مذکورہ حملوں کے بارے میں جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہم عراق کی سرزمین سے کیے گئے اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔"
بیان میں سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہ کیا گیا اور خطے میں کشیدگی میں اضافے سے بچنے کی خاطر سعودی حکام کے اختیار کردہ محتاط اور تحمل پر مبنی رویے کو سراہا گیا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے عراقی حکومت کی جانب سے مذکورہ حملوں کی مذمت کئے جانے اور واقعے کی حقیقت کو سامنے لانے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی خاطر فوری طور پر تحقیقات شروع کروانے کا اعلان کئے جانے کا خیرمقدم کیا اور کہا ہےکہ"ہم ایک بار پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ اس قسم کے ،علاقائی استحکام اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے، حملوں کو جلد از جلد ختم کیا جائے اور ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔"
سعودی عرب نے جوابی کاروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے
سعودی عرب نے اعلان کیا ہے کہ عراق سے آنے والے ڈرونوں حملوں میں مشرقی۔مغربی آئل پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سعودی حکام نے کہا تھا کہ ان حملوں میں کچھ افراد زخمی ہوئے اور مالی نقصان بھی ہوا ہے۔
ریاض حکومت نے اعلان کیا ہے کہ عراقی وزیر اعظم علی الزیدی کی درخواست پر "اس مرحلے پر جوابی کارروائی نہ کرنے" کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم، سعودی عرب نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔





















