شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کا جنوبی قبرصی یونانی انتظامیہ کو ہتھیاروں کی پابندی سے معاف رکھنے کے فیصلے کی معیاد بڑھانے کا فیصلہ انتہائی افسوسناک ہے ۔
وزارتِ خارجہ نے جاری کردہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہےکہ ایسے نازک وقت میں، جب خطے اور خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں سنگین تنازعات اور حساس نوعیت کی پیش رفتیں جاری ہیں، مشرقی بحیرۂ روم میں موجود نازک توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کرنا انتہائی اہم ہے جو خطے میں امن و سکون کے ماحول میں معاون ثابت ہوں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ"ہم عوام کوآگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ کے اس فیصلے پر ہمیں گہراافسوس اور تشویش ہے۔"
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جزیرے اور خطے کے زمینی حقائق کو پسِ پُشت ڈال کر اور قبرصی ترک عوام کو نظرانداز کرکے اسلحہ سازی کے رجحانات کو ہوا دینے والے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ"ہم تمام متعلقہ بین الاقوامی فریقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مشرقی بحیرۂ روم میں امن اور استحکام کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں اور اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ جزیرے پر دو الگ ریاستیں اور دو الگ عوام موجود ہیں، ایک منصفانہ اور متوازن پالیسی اختیار کریں۔ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ، ہمیشہ کی طرح آج بھی ایک غیر متزلزل تعاون اور یکجہتی کے ساتھ مادرِ وطن جمہوریۂ ترکیہ کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ مزید برآں قبرصی ترک عوام کی سلامتی و مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات عزم و استقلال کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے۔



















