غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ: "مجھے رہا کیا جائے"
ابو صفیہ نے عدالت میں اپنی جیل کی کوٹھڑی سے بذریعہ ویڈیو رابطہ پیشی دی۔ پیشی  کے دوران ان کے ہاتھوں پر ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ: "مجھے رہا کیا جائے"
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ ایک سال بعد پہلی بار پیشی پر اسرائیل کی سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہوئے / Reuters

شمالی غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے سربراہ ' ڈاکٹر حسّام ابو صفیہ' نے اسرائیل کی سپریم کورٹ سے  اپنی فوری رہائی کا حکم دینے کا مطالبہ کیا  اور اپنی پہلی عدالتی پیشی کے دوران کہا  ہےکہ ان کی حراست "ناحق  اور من مانی" ہے۔

ابو صفیہ نے عدالت میں اپنی جیل کی کوٹھڑی سے بذریعہ ویڈیو رابطہ پیشی دی۔ پیشی  کے دوران ان کے ہاتھوں پر ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔

ان کے وکیلِ صفائی' ناصر ابو عودہ' نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر حسام نے کہا ہے کہ "میری حراست ناحق اور من مانی ہے اور میں اپنی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہوں"۔

ابو صفیہ نے کہا ہے کہ "میں ایک بچوں کا ڈاکٹر  ہوں اور غزہ  کی پٹی میں مریضوں، زخمیوں اور کمزور لوگوں کو طبی خدمات اور نگہداشت فراہم کرتا رہا ہوں۔"

انہوں نے مزید کہا ہے کہ "میں نے اپنا کام بین الاقوامی قانون اور انسانی معیاروں سے ہم آہنگ شکل میں  انجام دیا  لہٰذا میری حراست" ناانصافی اور من مانی " کے زمرے میں آتی ہے۔

سخت قید کی حالت

ان کے وکیل نے سماعت کے بعد جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں کہا  ہےکہ" عدالت نے ابو صفیہ کی حراست جاری رکھنے کے بارے میں فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ  چند گھنٹوں یا  چند دنوں میں فیصلہ سُنا دیا جائے گا"۔

اس  سماعت کے دوران  ابو صفیہ، فروری 2025 میں اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی طرف سے شائع کی گئی اور جیل کے اندر ابو صفیہ کی زنجیر بند حالت کے مناظر پر مبنی ویڈیوکے بعد، پہلی بار عوامی سطح پر دِکھائی دیئے ہیں۔

ابو صفیہ کی پیشی ان کے  وکیل کی طرف سے،  ان کے حالات کی تفصیلات ظاہر کرنے  اوران کے دونوں ہاتھوں اور پیروں کے  ہتھکڑیوں سے جکڑے ہونے  اور انہیں خوراک، پینے کے صاف پانی اور طبی دیکھ بھال سے محروم رکھے جانے سے متعلق، بیان جاری کرنے کے بعد ہوئی  ہے۔

وکیل نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی حکام نے 3 جون سے  ابو صفیہ کو نیگِو جیل سے منتقل کر کے جنوبی اسرائیل کی نفحا جیل کے قیدِ تنہائی  سیل میں رکھا  ہوا ہے۔

متنازعہ قانون

اسرائیلی فوج نے ابو صفیہ کو 27 دسمبر 2024 کو کمال عدوان اسپتال پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا تھا۔

14 فروری 2025 کو الميزان سینٹر برائے انسانی حقوق نے جاری کردہ بیان میں  کہا تھا کہ جنوبی کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل یارون فنکل مین نے ابو صفیہ کو اسرائیل کے "قانونِ 'غیرقانونی جنگجو'" کے تحت حراست میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ، عالمی ادارہِ صحت، بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کریسنٹ اور متعدد بین الاقوامی طبی و انسانی حقوق کی تنظیموں نے ابو صفیہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

الميزان سینٹر برائے انسانی حقوق کے مطابق، اسرائیلی کنیسٹ نے 2002 میں "قانونِ 'غیرقانونی جنگجو'" نافذ کیا تھا جو حکام کو ، بغیر رسمی الزامات عائد کئے یا عدالت کے سامنے کافی ثبوت پیش کئے ،افراد کو غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے ۔

اس وقت تقریباً 9,500 فلسطینی اس وقت اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔