اسپین کی وزیرِ صحت نے بتایا ہے کہ حکام کی جانب سے ایم وی ہونڈیئس کروز جہاز کو خالی کرانے کا عمل مکمل ہونے کے فوراً بعد ایک ہسپانوی مسافر میں ہنٹا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
وزیرِ صحت مونیکا گارسیا کے مطابق، اس مسافر میں بیماری کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں، جبکہ دیگر 13 ہسپانوی شہریوں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں یہ تمام افراد میڈرڈ کے ایک فوجی ہسپتال میں قرنطینہ میں ہیں۔
آخری مسافر کے اترنے کے بعد، یہ جہاز پیر کے روز اسپین کے جزائر کناری سے نیدرلینڈز کے لیے روانہ ہو گیا تھا۔
اس وباء سے اب تک تین افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور عالمی سطح پر آٹھ کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔
ان کیسز میں پیرس میں انتہائی نگہداشت (ICU) میں داخل ایک فرانسیسی خاتون اور ایک امریکی شہری شامل ہے جس میں معمولی علامات کے بعد وائرس کی تصدیق ہوئی۔
نیدرلینڈز میں ایک متاثرہ مریض کے علاج کے دوران طریقہ کار کی غلطیوں کے باعث ہسپتال کے 12 ملازمین کو حفاظتی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
گارسیا نے بیان دیا کہ 23 ممالک سے تعلق رکھنے والے 125 افراد کو دو دنوں میں نکالنے کے بعد انخلاء کا مشن "مکمل" ہو گیا ہے۔ جہاز پر اس وقت عملے کے 25 ارکان، دو طبی عملہ اور ایک جرمن مسافر کی لاش موجود ہے جس کا انتقال سفر کے دوران ہوا تھا۔ توقع ہے کہ جہاز صفائی اور جراثیم کشی کے لیے 17 مئی کو روٹرڈیم پہنچے گا۔
اس وباء سے منسلک ہنٹا وائرس کی قسم 'اینڈیز سٹرین'ہے، جو انسان سے انسان میں منتقل ہونے والی واحد معلوم قسم ہے۔ اگرچہ ایم وی ہونڈیئس یکم اپریل کو ارجنٹائن سے روانہ ہوا تھا، لیکن عالمی ادارہ صحت کا خیال ہے کہ پہلی انفیکشن سفر شروع ہونے سے پہلے ہوئی تھی، جس کے بعد جہاز پر یہ وائرس دوسروں میں منتقل ہوا تاہم، ارجنٹائن کے حکام نے اس بات پر سوال اٹھایا ہے کہ آیا اس وباء کا آغاز اوشوایا سے ہوا تھا۔
کئی ممالک کے صحت کے حکام اب ان مسافروں اور ان سے رابطے میں آنے والے افراد کی تلاش کر رہے ہیں تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔











