ٹرمپ انتظامیہ نے ترکیہ کو 750 ملین ڈالر مالیت کے F110 جیٹ انجن فروخت کرنے کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق، انتظامیہ نے جنرل الیکٹرک کے تیار کردہ ان انجنوں کی فروخت جاری رکھنے کے اپنے ارادے سے کانگریس کو آگاہ کر دیا ہے جو ترکیہ کے پہلے مقامی جنگی طیارے KAAN کو قوت فراہم کریں گے۔
انتظامیہ نے صدر رجب طیب ایردوان کو "خطے میں ایک اہم شراکت دار" قرار دیا ہے۔
اس اقدام کو اگلے ماہ انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس سے قبل ترکیہ کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت اور خیر سگالی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدر ایردوان سے ملاقات متوقع ہے۔
توقع ہے کہ اس فروخت کے معاملے کو آنے والے دنوں میں حتمی شکل دے دی جائے گی، جس کے بعد امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کانگریس کو باضابطہ طور پر مطلع کیا جائے گا۔
بدھ کے روز جب ٹرمپ سے انقرہ کی جانب سے F-35 جنگی طیاروں اور جیٹ انجنوں کے مطالبے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایک ایسا قدم اٹھا سکتے ہیں جو ترکیہ کو بہت خوش کر دے گا۔
صدر ٹرمپ 7 اور 8 جولائی کو ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ پہنچیں گے جہاں ان کی صدر ایردوان سے ملاقات بھی متوقع ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے 2019 میں ترکیہ کی جانب سے روس سے S-400 فضائی دفاعی نظام خریدنے پر اعتراض کرتے ہوئے انقرہ کو F-35 جنگی طیاروں کے پروگرام سے نکال دیا تھا۔
واشنگٹن کا موقف تھا کہ S-400 نظام F-35 طیاروں کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈالے گا اور یہ نیٹو کے اصولوں کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔

















