یورپی یونین کی نمائندہ اعلیٰ برائے خارجہ پالیسی 'کایا کالاس' نے پیر کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے، روس کے فوجی و صنعتی شعبے کو ہدف بنانے والی، تقریباً 1,600 نئی پابندیوں کی منظوری دے دی ہے۔
سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں کالاس نے کہا ہے کہ پابندیوں میں یہ اضافہ، فروری 2022 میں روس کے یوکرین کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد سے یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں ہونے والا "سب سے بڑا اضافہ" ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ’’ان میں سے نصف سے زیادہ پابندیاں بیلسٹک میزائلوں کی تیاری سے متعلق ہیں۔ ہم روس کے لیے، یوکرینیوں کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے، ہتھیار تیار کرنا نمایاں طور پر مشکل بنا رہے، ان کی تیاری کی رفتار سست کر رہے اور اس کی لاگت میں اضافہ کر رہے ہیں۔‘‘
یورپی یونین کونسل نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاؤ اور ان کے استعمال کو ہدف بنانے والے پابندیوں کے اس نظام کی معیاد میں پانچ سال کا اضافہ کر کے اسے 30 اکتوبر 2031 تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کونسل نے اس نظام کے تحت افراد پر عائد انفرادی پابندیوں کی معیاد بھی ایک سال کے اضافے سے 30 اکتوبر 2027 تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ ان پابندیوں کا دائرۂ کار فی الحال 31 افراد اور چھ اداروں تک پھیلا ہوا ہے۔
فہرست میں شامل افراد اور اداروں کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور یورپی یونین کے شہریوں اور کمپنیوں کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر انہیں مالی وسائل یا اقتصادی ذرائع فراہم نہ کرنے کا پابند کر دیا گیا ہے۔
فہرست میں شامل افراد پر یورپی یونین کے رکن ممالک کا سفربھی ممنوع ہے۔

















