اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریش ہفتہ کو دمشق پہنچے، جو کہ 17 سال میں اقوام متحدہ کے سربراہ کا شام کا پہلا دورہ ہے، اور یہ اسدکے بعد عبوری مرحلے میں بین الاقوامی قبولیت کی تجدید کی علامت ہے۔
دمشق انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر گوٹریش کا استقبال شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے کیا۔ بعد ازاں ان کا 3 روزہ دورہ شروع ہوا۔ جس میں صدر احمد الشرع، سینئر حکومتی عہدیداران، سول سوسائٹی کے نمائندے اور ملک کی نئی قائم شدہ عبوری پارلیمنٹ کے ارکان سے ملاقاتیں اور بات چیت شامل ہے۔
یہ دورہ بان کی مون کی طرف سے 2009 کے دورہ دمشق کے بعد اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا پہلا دورہ ہے، جو شام کی خانہ جنگی کے پھوٹنے سے دو سال قبل تھا۔
اس تنازع نے نصف ملین سے زائد افراد کو ہلاک کیا اور لاکھوں کو بے گھر کر دیا، بعد ازاں شامی رہنما بشار الاسد کو دسمبر 2024 میں معزول کر دیا گیا۔
شام کے عبوری عمل کی حمایت
اقوامِ متحدہ کے سربراہ متوقع طور پر شام کے سیاسی عبور اور بحالی کی کوششوں میں تنظیم کی حمایت کا اعادہ کریں گے، جسے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کلاؤڈیو کورڈونے نے ملک کی تاریخ کے 'فیصلہ کن دور' کے طور پر بیان کیا ہے۔
سرکاری عہدیداران کے ساتھ ملاقاتوں کے علاوہ، گوٹریش سول سوسائٹی گروپس اور خواتین کے معاملات کی حمایتی تنظیموں کے عہدیداروں سے ملاقات کریں گے، جو کہ ریاستی اداروں سے ہٹ کر اقوامِ متحدہ کی وسیع شمولیت کو اجاگر کرتا ہے۔
علاقائی سلامتی پر توجہ
گوٹریش اسرائیل کے زیرِ قبضہ گولان کی پہاڑیوں میں واقع اقوامِ متحدہ کی ڈس اینگِیجمنٹ آبزروور فورس (UNDOF) کا بھی دورہ کریں، جہاں امن پسندوں نے 1974 سے شام-اسرائیل جنگ بندی لائن کی نگرانی کی ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب شام ایک دہائی سے زیادہ تنازع اور سیاسی انتشار کے بعد بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ قائم کرنے اور ملک کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔















